کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 386
شرم و حیا کے مسائل بعض نواقضِ وضو خصوصاً ’’مَا خَرَجَ مِنَ السَّبِیْلَیْنِ‘‘ سے تعلق رکھنے والے نواقض ایسے بھی ہیں، جنھیں شرم و حیا والے امور میں شمار کیا جاتا ہے اور بعض لوگوں کو ناگوار گزرتا ہے کہ ایسے مسائل بیان کیے جائیں، ان کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ ماؤں، بہنوں اور بہو بیٹیوں کی موجودگی میں ایسے مسائل کا ذکر تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ان کے جذبات کا پاس کرتے ہوئے بہ قدرِ امکان مناسب الفاظ سے ان مسائل کا تذکرہ بھی از بس ضروری ہے، کیوں کہ وہ بھی دین کا ایک جزو ہیں۔ مسائلِ دین کے بیان کرنے میں اگر محض اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئے تساہل برتا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دین کا ایک حصہ نظروں سے اوجھل رہ جائے گا، ویسے بھی صحیح بخاری، سنن ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ ، دارمی اور مسند احمد میں بھی ہے: (( إِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ )) [1] ’’یقینا اللہ تعالیٰ حق بیان کرنے سے نہیں شرماتا۔‘‘ نیز سورۃ الاحزاب (آیت: ۵۳) میں ارشادِ الٰہی ہے: {وَ اللّٰہُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ}’’لیکن اللہ سچی بات کے کہنے سے شرم نہیں کرتا۔‘‘ خود پیکرِ شرم و حیا نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مسائل اپنی امت کے تمام افرادِ مرد و زن کے لیے بیان فرمائے اور ان مسائل کو اُمہات المومنین رضی اللہ عنہم نے کمال دیانت سے اُمت تک پہنچایا۔ جب عفت مآب صدیقۂ کائنات رضی اللہ عنہا سے ان مسائل کی بکثرت احادیث مروی ہیں اور اُمّ المومنین حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں تو آج ہماری ماؤں، بہنوں اور بہو بیٹیوں کو چیں بہ جبیں نہیں ہونا چاہیے اور نہ مردوں [1] صحیح البخاري مع الفتح (۱؍ ۳۸۸) صحیح مسلم (۱؍ ۳؍ ۲۲۳، ۲۲۴) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۲۳۷) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۰۶) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۹۰) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۱۹۲۴) الفتح الرباني (۲؍ ۷۴) سنن الدارمي (۷۶۳) طبع دار الکتاب العربي۔