کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 385
مرض ہوتا ہے، ایسے ہی بعض کو سلس الریح کی بیماری ہوتی ہے کہ وہ چند منٹ کے لیے بھی ہوا کو نہیں روک سکتے، بلکہ بلا اختیار ہوا خارج ہوتی رہتی ہے۔ ایسے لوگوں کے وضو اور نماز کاحکم بھی سلس البول والوں ہی کی طرح ہے۔ علما نے اسے بھی استحاضہ کے حکم میں داخل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ وضو کر کے اطمینان سے نماز ادا کرلے۔ اس نماز کی سنتیں اور نوافل بھی پڑھ لے، حتیٰ کہ معمول کے مطابق قرآنِ کریم کی تلاوت، درود شریف یا دوسرا کوئی مسنون وظیفہ کرنا چاہے تو نماز کے ساتھ ہی اسی وضو سے کرلے، البتہ ایک وضو سے متعدد نمازیں ادا نہیں کر سکتا۔[1]  [1] فتاوی عزیزی (ص: ۳۶۲) بحوالہ فتاویٰ علماے حدیث (۱/ ۷۵) فقہ السنۃ (۱/ ۶۰) المغني (۱؍ ۳۰۴) دلیل الطالب (ص: ۲۳۷، ۳۴۵) بحوالہ فتاویٰ علماے حدیث (۱/ ۸۴، ۹۱) دلائل و تفصیل سلس البول کے ضمن میں گزر چکی ہے، لہٰذا دہرانے کی ضرورت نہیں۔