کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 384
نے اس حدیث کو مرضِ وسواس میں مبتلا لوگوں کے ساتھ خاص قرار دیا ہے، مگر انھوں نے صحیح مسلم اور سنن ابو داود میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ نقل کرکے ثابت کیا ہے کہ اس حدیث کا حکم وسواس والوں کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ ہر کسی کے لیے عام ہے کہ جب تک خروجِ ہوا یا کسی بھی دوسرے طریقے سے وضو کے ٹوٹ جانے کا یقین نہ ہو جائے، تب تک مطمئن ہو کر اسی وضو سے نماز ادا کرتے جانا چاہیے۔[1] امام خطابی رحمہ اللہ ’’معالم السنن‘‘ میں فرماتے ہیں کہ آواز سننے یا بُوپانے کا معنیٰ پختہ یقین حاصل کر لینا ہے، خاص آواز یا بو پانا مراد نہیں اور جب کوئی معنیٰ خاص نام سے زیادہ وسعت والا ہو تو حکم اسی معنیٰ کا ہوگا نہ کہ اس خاص معنیٰ کا۔[2] جمہور اہلِ علم کا مسلک تو یہی ہے، البتہ امام مالک رحمہ اللہ ایک قول میں شک سے وضو کے ٹوٹ جانے کے قائل ہیں اور دوسرے قول میں ان کے نزدیک ایسے وقت میں نیا وضو کرلینا زیادہ محبوب ہے۔ ان کا یہ مسلک من حیث النظر تو قوی ہے، مگر مدلولِ حدیث کے مخالف ہے (لہٰذا جمہور کا مسلک ہی اولیٰ ہے)۔ [3] امام ابن مالک رحمہ اللہ نے اس سلسلے میں ایک بڑی عمدہ بات کہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ’’اگر کسی کو حادث ہونے میں شک ہو جائے تو اس پر وضو کرنا اس وقت تک واجب نہیں جب تک اسے اس کا پختہ یقین نہ آجائے اور پختہ یقین اس حد تک کہ وہ اس پر حلف یعنی قسم کھا سکے، لیکن اگر حادث ہونے کا یقین ہو، جب کہ طہارت کے بحال ہونے کا محض شک رہ جائے تو اس پر وضو کرنا لازم ہے اور اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔‘‘[4] -4 سلس الریح: جس طرح بعض لوگوں کو تقطیر البول یا سلس البول یعنی پیشاب کے قطروں کے آتے رہنے کا [1] فتح الباري (۱؍ ۲۳۸) [2] معالم السنن للخطابي (۱؍ ۱۲۹) [3] فتح الباري (۱؍ ۲۳۸) [4] شرح صحیح مسلم للنووي (۲؍ ۳؍ ۵۰) فقہ السنۃ (۱؍ ۵۶)