کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 376
ہونا اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ تیمم کرنے والا، وضو والوں کی امامت کروا سکتا ہے۔ اس طرح دو مسئلے حل ہوگئے، ایک مذکورہ زیرِ بحث مسئلہ اور دوسرا تیمم والے کا وضو والوں کی امامت کروانا اور اس کا جائز ہونا۔ جمہور اہلِ علم اور فقہاے کوفہ کا یہی مسلک ہے اور اس سلسلے میں امام بخاری رحمہ اللہ بھی ان کے موافق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی صحیح کے ایک ترجمۃ الباب میں انھوں نے بڑے جزم و یقین کے ساتھ، مگر تعلیقاً نقل کیا ہے: ’’أَمَّ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَھُوَ مُتَیَمِّمٌ‘‘[1] ’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے امامت کروائی، جب کہ وہ تیمم کیے ہوئے تھے۔‘‘ صحیح بخاری شریف کے ترجمۃ الباب میں یہ اثر تعلیقاً بیان کیا گیا ہے، جب کہ مصنف ابن ابی شیبہ اور سنن بیہقی میں اس اثر کو موصولاً روایت کیا گیا ہے۔ محدثینِ کرام نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ اثر نقل کرکے اشارہ فرما دیا ہے کہ تیمم پوری طرح وضو کا قائم مقام ہوتا ہے اور اگر اس سے حاصل ہونے والی طہارت وضو والی طہارت سے کم تر ہوتی تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تیمم کرکے ان لوگوں کی امامت نہ کرواتے، جنھوں نے وضو کیا ہوا تھا۔ تیمم والے کی امامت کے صحیح ہونے اور اس کے پیچھے متوضی نمازیوں کی نماز کے صحیح ہونے کا دوسرا ثبوت یا دلیل وہ حدیث ہے، جس میں حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ کا واقعہ مذکورہ ہے، جسے امام بخاری نے اپنی صحیح کے ایک ترجمۃ الباب میں تعلیقاً نقل کیا ہے اور صیغہ تمریض استعمال کیا ہے، جس کی توجیہ ’’فتح الباري‘‘ میں یہ بیان کی گئی ہے کہ امام صاحب نے اس واقعہ کو چونکہ مختصراً ذکر کیا ہے، لہٰذا اس کی تصدیر ذکر کر کے صیغۂ تمریض و تضعیف سے کی ہے، ورنہ حدیث قوی سند والی ہے۔[2] اس واقعہ کو سنن ابو داود و دارقطنی، مستدرک حاکم، صحیح ابن حبان اور مسند احمد میں موصولاً روایت کیا گیا ہے، جس میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم غزوۂ ذات السلاسل میں بھیجے گئے۔ ایک رات جب کہ سخت سردی تھی، مجھے غسل کی ضرورت پیش آگئی اور مجھے اندیشہ ہواکہ اگر میں [1] صحیح البخاري مع الفتح (۱؍ ۴۴۶) [2] فتح الباري (۱؍ ۴۵۴)