کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 375
جاسکتی ہیں۔‘‘ 6۔امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب والے اس اثرِ حسن بصری رحمہ اللہ کے علاوہ اس باب میں وہ حدیث بھی نقل کی ہے، جس میں جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑ ھنے والے آدمی سے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تھا: (( مَا مَنَعَکَ یَا فُلَانٌ أَنْ تُصَلِّيْ مَعَ الْقَوْمِ؟ )) ’’اے فلاں ! قوم کے ساتھ مل کر نماز ادا کرنے سے تجھے کس چیز نے روکاہے؟‘‘ تو اس نے جواب دیا: (( أَصَابَتْنِيْ جَنَابَۃٌ وَلَا مَائٌ )) ’’مجھے جنابت ہوگئی تھی اور پانی نہیں ملا (کہ غسل کرلیتا )۔‘‘ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: (( عَلَیْکَ بِالصَّعِیْدِ فَإِنَّہٗ یَکْفِیْکَ )) [1] ’’تمھیں مٹی سے کام لینا (تیمم کر لینا) تھا اور یہ تمھارے لیے کافی ہے۔‘‘ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے لفظ (( یَکْفِیْکَ )) سے امام بخاری نے یہی اخذ کیا ہے کہ ایک مرتبہ کیا ہوا تیمم تمھارے لیے کا فی ہے، یعنی جب تک تمھاری طہارتِ تیمم ٹوٹ نہ جائے یا پانی نہ مل جائے۔ کبار علماے اسلام میں سے امام ابن المنذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ایک تیمم سے کئی نوافل جائز و صحیح ہیں، تو پھر کئی فرائض بھی صحیح ہیں، کیوں کہ جن امور کو فرائض کے لیے شرط قرار دیا گیا ہے۔ وہی نوافل کے لیے بھی شرط ہیں۔ سوائے کسی ایسی استثنائی شکل کے جو کسی دلیل سے ثابت ہو اور علامہ ابن حزم رحمہ اللہ کی طرح ہی امام ابن المنذر رحمہ اللہ نے بھی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی ہے کہ ہر فرض نماز کے لیے پانی کی تلاش واجب نہیں۔[2] تیمم کرنے والے کا امامت کروانا: مذکورہ مسئلے کی مزید وضاحت اس سے بھی ہو جاتی ہے کہ تیمم کا ہر لحاظ سے وضو کے قائم مقام [1] صحیح البخاري مع الفتح (۱؍ ۴۴۷) [2] کذا في فتح الباري (۱؍ ۴۴۷)