کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 374
حضرت حسن بصری، امام بخاری، امام ابن المنذر رحمہم اللہ : رئیس المحدّثین امام بخاری رحمہ اللہ کا رجحان بھی واضح طور پر اسی طرف ہے کہ ایک تیمم سے متعدد فرضی و نفلی نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں اور جب تک کوئی ناقض واقع نہ ہو، تیمم کی طہارت موجود رہتی ہے۔ 1۔چنانچہ صحیح بخاری کے ایک ترجمۃ الباب میں موصوف نے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا وہ قول نقل کیا ہے، جس میں وہ فرماتے ہیں: ’’یُجْزِئُہٗ الْتَّیَمُّمُ مَالَمْ یُحْدِثْ‘‘[1] ’’تیمم والا جب تک حادث نہ ہو جائے، وہ اسے کافی رہتا ہے۔‘‘ 2۔امام بخاری رحمہ اللہ نے تویہ اثر تعلیقاً ذکر کیا ہے، جب کہ بعض دیگر کتبِ حدیث میں یہ موصولاً بھی مروی ہے۔ چنانچہ مصنف عبد الرزاق میں اس اثر کے الفاظ ہیں: ’’یُجْزِیُٔ تَیَمُّمٌ وَاحِدٌ مَا لَمْ یُحْدِثْ‘‘ ’’جب تک کوئی ناقضِ وضو واقع نہ ہو، تیمم کفایت کرتا جاتا ہے۔‘‘ 3۔مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے: ’’لَا یُنْقِضُ التَّیَمُّمَ إِلَّا الْحَدَثُ‘‘ ’’تیمم کی طہارت کو صرف حدث ہی توڑتا ہے۔‘‘ 4۔سنن سعید بن منصور میں ہے: ’’اَلتَّیَمُّمُ بِمَنْزِلَۃِ الْوُضُوْئِ إِذَا تَیَمَّمْتَ فَأَنْتَ عَلٰی وُضُوْئٍ حَتَّیٰ تُحْدِثَ‘‘ ’’تیمم وضو کے قائم مقام ہے۔ جب تم تیمم کر لو تو ناقضِ وضو واقع ہونے تک تم وضو ہی سے ہو۔‘‘ 5۔مصنف حماد بن سلمہ میں ہے: ’’تُصَلِّيْ الصَّلَوٰتِ کُلَّھَا بِتَیَمُّمٍ وَّاحِدٍ مِثْلَ الْوُضُوْئِ مَا لَمْ تُحْدِثْ‘‘[2] ’’وضو کی طرح ہی کوئی حادث یا ناقضِ وضو واقع ہونے تک تیمم سے بھی تمام نمازیں پڑ ھی [1] صحیح البخاري مع الفتح (۱؍ ۴۴۶) [2] دیکھیں: فتح الباري (۱؍ ۴۴۶)