کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 373
ایک لغو اور باطل بات ہے، کیوں کہ کسی جگہ سے صرف ایک مرتبہ پانی تلاش کر لینا اور اس کے عدمِ وجود کا یقین کر لینا کافی ہوتا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ کا یہ قول کہ فرضی نماز کے بعد تو تیمم والی طہارت نفلوں کے لیے برقرار رہتی ہے، البتہ نفلوں کے بعد فرضوں کے لیے نہیں، ان کے اس قول کو فاسد قرار دیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا جو قول ہے کہ ہر فرضی نماز کے ساتھ دوبارہ تیمم کرے، البتہ نوافل کے ساتھ تجدیدِ تیمم کی ضرورت نہیں۔ ان کے اس قول کو بھی ظاہر الخطا قرار دیا ہے اور امام ابو ثور رحمہ اللہ نے جو لکھا ہے کہ تیمم کی طہارت نماز کے وقت تک رہتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ہی وہ طہارت ختم ہو جاتی ہے، اسے بھی انھوں نے ظاہر الخطا کہا اور لکھا ہے کہ ہمیں قرآن و سنت، کسی سے بھی نواقضِ طہارت میں سے ’’خروجِ وقت‘‘ نامی کوئی سبب معلوم نہیں ہے، پھر آگے چل کر انھوں نے وہ چاروں آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی ذکر کیے ہیں، جو ہم نقل کر چکے ہیں اور انھیں غیر صحیح بلکہ ضعیف و ناقابلِ حجت قرار دیا ہے، پھر سورۃ المائدہ (آیت: ۶) سے جو تیمم کے لیے دخولِ وقت کو شرط قرار دیا ہے، اس کی بھی تردید کی ہے۔[1] علامہ نواب صدیق حسن خان والیِ بھوپال کی تحقیق: امام شوکانی رحمہ اللہ نے ’’الدرر البہیۃ‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی، جس میں صحیح دلائل والے فقہی مسائل ذکر کیے ہیں اور والیِ ریاست بھوپال علامہ نواب صدیق حسن خان نے دو جلدوں میں اس کی ایک بے نظیر شرح قلم بند کی ہے، جس کا نام ’’الروضۃ الندیۃ‘‘ ہے۔ اس کی دار المعرفۃ بیروت والی طبع (ص: ۵۹) میں علامہ موصوف نے بھی لکھا ہے کہ تیمم وضو کی طرح ہی ہے اور ایک تیمم سے متعدد فرضی و نفلی نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں۔ ایک نماز سے فارغ ہو جانے یا اس نماز کا وقت نکل جانے سے تیمم والی طہارت ختم نہیں ہوتی اور ’’حجۃ‘‘ سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’وَلَمْ أَجِدْ فِيْ حَدِیْثٍ صَحِیْحٍ تَصْرِیْحاً بِأَنَّہٗ یَجِبُ أَنْ یَّتَیَمَّمَ لِکُلِّ فَرِیْضَۃٍ‘‘[2] ’’مجھے کسی صحیح حدیث میں یہ صراحت نہیں ملی، جس کی روسے ہر فرض نماز کے ساتھ ازسرِ نو تیمم کرنا واجب ہو۔‘‘ [1] المحلی (۱؍ ۲؍ ۱۲۸۔ ۱۳۳) [2] الروضۃ الندیۃ (ص: ۹۵) دار المعرفۃ، بیروت۔