کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 37
اس واقعے کی تفصیلات مطلوب ہوں تو تفسیر کی کتابوں میں سورۃ التوبہ (آیت: ۸ تا ۸۴) کی تفسیر دیکھ لیں اور پھر اندازہ فرمائیں تو کفن بھگو کر لانے کی حقیقت خود بہ خود واضح ہو جائے گی۔ [1] چوتھی قسم: طاہر و مطہّر، مطلق پانی کی چوتھی قسم سے مراد وہ پانی ہے، جو کسی جگہ دیر تک ٹھہرا رہے اور اس کے تادیر ٹھہرے رہنے اور درختوں کے پتوں اور کائی و مٹی وغیرہ کے اثرات سے اس کے رنگ میں بھی تغیرّ واقع ہو جائے، مگر اس میں کوئی نجاست و گندگی نہ پڑی ہو تو وہ پانی بھی پاک و طاہر اور مطہر ہی رہے گا۔ علامہ ابن رشد رحمہ اللہ نے ایسے پانی کے طاہر و مطہر ہونے پر اہلِ علم کا اتفاق نقل کیا ہے اور اسی بات کا اظہار امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے ’’المغني‘‘ میں کیا ہے۔ [2] نیز امام قرطبی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر ’’الجامع لأحکام القرآن‘‘ (۱۳/ ۷/ ۴۴) میں یہی بات ذکر کی اور لکھا ہے کہ علماے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے: (( فَاتَّفَقَ الْعُلَمَائُ اَنَّ ذَٰلِکَ لَا یَمْنَعُ مِنَ الْوُضُوئِ بِہٖ )) ’’یہ ( درختوں کے پتوں، کائی اور مٹی وغیرہ کا پانی میں مل جانا) اس پانی سے وضو کرنے میں مانع نہیں ہے۔‘‘ اسی سے بڑی بڑی جھیلوں اور تالابوں کے اس پانی کا حکم واضح ہو گیا، جو مدّتوں ٹھہرے رہنے اور مختلف اسباب سے اس میں پتے وغیرہ گرنے اور کائی اُگ آنے سے اس کا رنگ قدرے بدل جاتا ہے۔ غیر مطلق پانی کی اقسام: مطلق یا عام پانی کے تحت آنے والے پانی کی چار قسمیں بیان کی جاچکی ہیں، جن کے پانی کو بالاتفاق پاک و طاہر اور مطہر قرار دیا گیا ہے۔ اب آئیے مطلق پانی کی ان چار قسموں کے علاوہ غیر مطلق پانی کی چار قسموں کے بارے میں بھی باری باری شریعت اسلامیہ کا حکم معلوم کریں کہ وہ پاک ہیں یا ناپاک؟ اگر وہ پاک ہیں تو وہ محض طاہر ہیں یا مطہر بھی کہ جس سے غسل و وضو جائز ہوتا ہے؟ اس اعتبار سے اس پانی کی بھی چار ہی قسمیں ہیں۔ [1] تفسیر ابن کثیر (۲؍ ۴۱۴ تا ۴۱۶ اردو) و التجرید الصریح (۱؍ ۹۴) [2] بدایۃ المجتہد (۱؍ ۳۴۔ ۳۵) المغني (۱؍ ۲۲۔ ۲۳)