کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 369
طہارت ہی سے ہوگا، کیوں کہ محض خروجِ وقت ناقضِ تیمم نہیں، بلکہ اس کا حکم بھی وضو ہی کا ہے، جیسا کہ ہمارے احناف کا مذہب ہے۔[1] وقتِ تیمم: امام شافعی، احمد، مالک اور ابو داود رحمہم اللہ کے نزدیک تیمم کے لیے کسی نماز کے وقت کا ہو جانا شرط ہے اور ان کا استدلال بعض احادیث سے ہے، مثلاً مسندِ احمد میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’میرے اور میری امت کے لیے ساری زمین کو مسجد اور ذریعہ طہارت بنایا گیا ہے۔ میری امت کے کسی آدمی کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے، تو اس کے پاس ہی اس کی مسجد و طہارت ہے۔‘‘ اسی مفہوم کی کئی دوسری احادیث بھی صحیحین اور سنن میں مذکور ہیں۔[2] ان سب احادیث میں جو (( أَیْنَمَا أَدْرَکَتْنِيْ الصَّلَاۃُ۔۔۔ الخ )) یا (( أَیْنَمَا أَدْرَکَتْ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِيْ الصَّلَاۃُ )) کے الفاظ ہیں اور صحیحین کے الفاظ ہیں: (( فَأَیُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِيْ أَدْرَکَتْہُ الصَّلَاۃُ فَلْیُصَلِّ۔۔۔ )) ان سب کا مفہوم ایک ہی ہے کہ میری امت کے کسی بھی شخص کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے، وہ نماز پڑھ لے اور (پانی نہ ہونے کی شکل میں ) تیمم کر لے۔ مذکورہ حضرات نے نماز کا وقت ہو جانے سے استدلال کیا ہے کہ تیمم کے لیے ضروری ہے کہ پہلے کسی نماز کا وقت ہو۔ قرآنی الفاظ: {اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ} سے بھی استدلال کیا گیا ہے، جب کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب و رفقا کے نزدیک وضو کی طرح ہی تیمم بھی قبل از وقت کیا جاسکتا ہے اور امام شوکانی رحمہ اللہ نے اس کی تائید کرتے ہوئے ’’نیل الأوطار‘‘ میں لکھا ہے: ’’وَھٰذَا ھُوَ الظَّاھِرُ، وَلَمْ یَرِدْ مَا یَدُلُّ عَلَیٰ عَدَمِ الْأَجْزَائِ‘‘ ’’یہی ظاہر ہے اور وقت سے پہلے کیے گئے تیمم کے صحیح نہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔‘‘ آگے مزید لکھتے ہیں: [1] بحوالہ تحفۃ الأحوذي (۱؍ ۳۸۷) [2] دیکھیں: المنتقی مع النیل (۱؍ ۱؍ ۲۵۹، ۲۶۰)