کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 36
کو پلاتے اور ان پر چھڑکا کرتے تھے۔‘‘ 7۔ سنن کبریٰ بیہقی (۵/ ۲۰۲) اور مصنف عبدالرزاق، رقم الحدیث (۹۱۲۷) میں مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو تاکید فرمائی تھی: (( إِھْدِ لَنَا مِنْ مَّآئِ زَمْزَمَ وَلَا تَتْرُکْ فَیَبْعَثُ إِلَیْہِ بِمَزَادَتَیْنِ )) ’’ہمیں آبِ زمزم کا ہدیہ بھیجتے رہو اور یہ سلسلہ ترک نہ کرو اور وہ آپ کو (ہر مرتبہ) دو مشکیز ے بھر کر بھیجا کرتے تھے۔‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ سلف صالحین اپنے ساتھ آبِ زمزم لے جایا کرتے تھے۔ [1] جیسا کہ آج تک حجاجِ کرام اپنے ساتھ پانی لاتے ہیں۔ البتہ یہ جو حجاجِ کرام اپنے لیے کفن کا کپڑا آبِ زمزم میں تر کر کے لاتے ہیں اور کرنسی کے سکے بھگو کر لاتے ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ اس طرح برکت حاصل ہوگی اور نجات حاصل ہو جائے گی، تو یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، خلفا و صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کسی سے بھی ثابت نہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فعل بے کار اور بدعت ہے۔ [2] ویسے بھی مال و دولت میں برکت دینا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اگر عقائد و اعمال درست نہ ہوئے تو آبِ زمزم میں بھیگا کفن ذریعہ نجات نہیں بن سکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتا جاتے اور پھر عبداللہ بن اُبی کا واقعہ مشہور ہے۔ صحیح بخاری میں ہے: ’’اسے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ مبارک بطورِ کفن پہنایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھانے کی تیاری بھی کرلی اور حضرت عمر فاروق نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا جنازہ نہ پڑھانے کا مشورہ بھی دیا، مگر پھر بھی نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھایا اور اس کی تدفین میں شرکت فرمائی، مگر اس کی نجات نہ ہوسکی، حتیٰ کہ قرآنِ حکیم کی آیات نازل ہوگئیں کہ اس شخص کی مغفرت نہیں ہوگی۔ چاہے آپ ستر مرتبہ اس کا جنازہ پڑھائیں، کیونکہ اس کے عقائد و اعمال درست نہ تھے۔‘‘ [1] المناسک للألباني (ص: ۴۲) [2] السنن و المبتدعات (ص: ۱۱۳) حجۃ النبيﷺ للألباني (ص ۱۱۹)