کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 356
حدیث کے لفظ (( کَفَّیْنَ )) نے اس تاویل کا راستہ ہی بندکر دیا اور ہاتھوں کی بھی حد بندی کر دی ہے کہ ہاتھوں سے صرف ہاتھوں اور کلائیوں کے جوڑوں تک کا حصہ مراد ہے، اس سے آگے نہیں۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ والی حدیث ہی کی ایک روایت میں بخاری شریف میں مذکور الفاظ کے مطابق نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( یَکْفِیْکَ الْوَجْہُ وَالْکَفَّانِ )) [1] ’’تمھیں چہرے اور دونوں ہاتھوں پر باہم ہاتھ پھیر لینا ہی کافی ہے۔‘‘ امام احمد، اسحاق بن راہویہ، ابن جریر، ابن خزیمہ اور ابن المنذر رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے۔ ابن الجہم اور بعض دیگر اہلِ علم نے امام مالک رحمہ اللہ سے بھی یہی مسلک نقل کیا ہے اور امام خطابی رحمہ اللہ کے بقول اہلِ حدیث علما کا بھی یہی مسلک ہے۔[2] امام ابو داود اور دیگر علما نے امام شافعی رحمہ اللہ سے قدیم قول میں یہی مسلک ذکر کیا ہے اور ’’الفروع شرح المہذب‘‘ میں امام نووی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ (اگر چہ ہمارے مسلک میں) یہ رائے مرجوح ہے، لیکن دلیل کے اعتبار سے یہی قوی ہے۔[3] کہنیوں تک: حضرت حسن بصری، شعبی، امام ابو حنیفہ، ثوری اور ایک روایت کے مطابق امام مالک اور شافعی رحمہم اللہ کا مسلک یہ ہے کہ تیمم میں ہاتھوں کو کہنیوں تک پھیرا جائے۔[4] ان کا استدلا ل بعض روایات اور قیاس دونوں سے ہے۔ وہ روایات تو وہی ہیں جو دو مرتبہ زمین پر ہاتھوں کو مارنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہی میں سے بعض میں کہنیوں تک کے الفاظ بھی موجود ہیں، بلکہ بعض میں تو کلائیوں، کندھوں اور بغلوں کا بھی ذکر آیا ہے۔ چنانچہ سنن ابو داود میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی مرفوع حدیث میں مذکور ہے: [1] صحیح البخاري مع الفتح (۱؍ ۴۴۵) [2] فتح الباري (۱؍ ۴۴۵) [3] فتح الباري (۱؍ ۴۴۵) [4] معالم السنن (۱؍ ۲۰۰)