کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 355
صرف ہاتھوں تک: صحیح تر روایات کے مطابق تیمم صرف چہرے اور ہاتھوں ہی کا ہے۔ حسبِ موقع یہی پورے غسل و وضو دونوں کا قائم مقام بھی بن جاتا ہے اورصرف وضو کا بھی، کیوں کہ حضرت ابو جہیم بن حارث انصاری رحمہ اللہ اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے مروی دو احادیث کے علاوہ طریقۂ تیمم کے سلسلے میں کوئی حدیث صحیح سند سے ثابت نہیں ہے، ان دونوں کی مروی احادیث میں ہاتھوں کا مسح صرف کلائیوں اور ہاتھوں کے درمیان والے جوڑ تک ہی ہے، جسے عام طور پر ’’ہاتھ‘‘ کہا جاتا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری و مسلم، سنن نسائی اور دارقطنی کی حضرت ابو جہیم رضی اللہ عنہ والی حدیث جو مسلم میں تعلیقاً اور دیگر کتب میں موصولاً مروی ہے، اس میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تیمم کا جو طریقہ بتایا گیا ہے، اس میں دیوار پر ہاتھ مارنے کے بعد یہ مذکور ہے: (( فَمَسحَ بِوَجْھِہٖ وَیَدَیْہِ )) [1] ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرۂ اقدس اور دو نوں ہاتھوں کا مسح کیا۔‘‘ اس حدیث میں تو مطلقاً دونوں ہاتھوں کا ذکر ہے، جب کہ صحیح بخاری و مسلم اور سننِ اربعہ میں مذکور حضرت عمار رضی اللہ عنہ والی حدیث میں تو مزید واضح اور محدود کرنے والا لفظ (( کَفَّیْنَ )) آیا ہے۔ اس میں زمین پر ہاتھ مارنے اور ان میں پھونک مارنے کے بعد مذکور ہے: (( ثُمَّ مَسَحَ بِھِمَا وَجْھَہٗ وَکَفَّیْہِ )) [2] ’’پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دونوں ہاتھوں کو) اپنے چہرۂ اقدس پر پھیرا اور (پھر) باہم اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر۔‘‘ اب یہاں یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ مطلق (( یَدَیْن )) کے لفظ میں اس تاویل کی گنجایش تھی کہ عربی میں بلکہ عرفِ عام میں (( یَدَیْنَ )) یا ہاتھوں سے مراد کہنیوں تک ہاتھ ہوسکتے ہیں، لیکن دوسری [1] صحیح البخاري مع الفتح (۳۳۸) صحیح مسلم مع شرح النووي (۴؍ ۶۲) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۱۳) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۰۸) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۲۵) مختصر سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۵۹۹) المشکاۃ مع المرعاۃ (۱؍ ۱۸۷۔ ۱۸۹) و صحیح الجامع، رقم الحدیث (۲۳۶۷) [2] فتح الباري (۱؍ ۴۳۴۔ ۴۳۵)