کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 352
’’اصول کے زیادہ مشابہ اور قیاس کی رو سے صحیح تر ہے۔‘‘ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ جب صحیحین اور دیگر کتب میں ایک حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو پھر اس کے بعد قیاس کی بھول بھلیوں میں کھونے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے ’’زاد المعاد‘‘ میں لکھا ہے: ’’وَلَمْ یَصِحَّ عَنْہُ أَنَّہُ ( صلی اللّٰه علیہ وسلم ) تَیَمَّمَ بِضَرْبَتَیْنِ وَلَا إِلٰی الْمِرْفَقَیْنِ‘‘ ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کے لیے ہاتھوں کو دو مرتبہ زمین پر مارا ہو۔ اسی طرح یہ بھی ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کے لیے ہاتھوں کا مسح کہنیوں تک کیا ہو۔‘‘ یہیں یہ بات بھی ذکر کر دیں کہ تلخیص کے حاشیے میں شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ کے حوالے سے جو لکھا ہے کہ احادیث دونوں طرف موجود ہیں، لہٰذا اگرچہ ایک طرف صحیحین کی احادیث ہیں اور دوسری طرف سنن کی، لیکن دو ضربوں والے مسلک نیز ہاتھوں کو کہنیوں تک مسح کرنے والے مسلک میں احتیاط زیادہ ہے، کیوں کہ اس میں صحیحین والا عمل آجاتا ہے کہ ایک ضرب بھی آگئی اور کہنیوں تک ہاتھ دھونے میں کلائی کے جوڑ (گٹے) تک ہاتھ دھونا بھی آجاتا ہے۔[1] تو موصوف کا یہ انداز خالص قیاسی نوعیت کا ہے۔ اس کے بجائے یوں کہا جائے تو زیادہ بہتر ہے کہ احادیث تو دونوں طرف ہیں، مگر ایک طرف صحاح و سنن اور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع احایث ہیں اور دوسری طرف ضعاف اور مرفوع و موقوف ہونے میں مختلف فیہ بلکہ موقوف روایات ہیں۔ لہٰذا صحاح پر عمل کر لیا جائے، کیوں کہ اگر دوسری حسن درجے کی احادیث بلکہ بعض صحیح درجے والی ہوتیں، تب بھی اوّلیت و اصحیت اسی عمل کو دی جاتی، جو صحیحین سے ثابت ہوتا ہے، جب کہ یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ دو ضربوں کی تائید جن احادیث سے ہوتی ہے، وہ سب متکلم فیہ ہیں، حتیٰ کہ مسند بزار کی ایک روایت جو حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جسے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’الدرایۃ‘‘ میں سند کے اعتبار سے حسن درجے کی قرار دیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ اس روایت کو امام ابو داود نے بھی روایت کیا ہے، جس میں ہاتھوں کو کندھوں تک دھونے کا تذکرہ ہے، امام ابو داود نے اس کی [1] تحفۃ الأحوذي (۱؍ ۴۵۰)