کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 35
’’آبِ زمزم ہر اس مرض و غرض کے لیے مفید ہے، جس کی نیت کے لیے یہ پیا جائے۔‘‘ 3۔ نیز صحیح مسلم، مسند ابو داود طیالسی، مسند احمد، مسند بزار اور معجم طبرانی صغیر میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( اِنَّہَا لَمُبَارَکَۃُ ، وَھِیَ طَعَامُ طُعْمٍ، وَشِفَآئُ سُقْمٍ )) [1] ’’یہ بڑا بابرکت پانی ہے۔ یہ بھوکے کے لیے غذا کا کام دیتا ہے اور یہ بیماری سے شفا کا موجب ہے۔‘‘ صحیح مسلم (باب فضائل ابی ذرّ) اور مسند احمد (۵/ ۱۷۵) میں بھی یہ حدیث تو موجود ہے، البتہ ان دونوں میں صرف (( شِفَائُ سُقْمٍ )) کے الفاظ نہیں ہیں۔ 4۔ اسی حدیث میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی مروی ہیں: (( خَیْرُ مَائٍ عَلٰی وَجْہِ الْأَرْضِ مَائُ زَمْزَمَ )) [2] ’’یہ آبِ زمزم روئے زمین کا سب سے عمدہ اور افضل پانی ہے۔‘‘ 5۔ زوائدِ اَحمد اور مسندِ احمد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آبِ زمزم کا ڈول منگوایا: (( فَشَرِبَ مِنْہٗ وَتَوَضَّأَ )) [3] ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پیا اور وضو بھی فرمایا۔‘‘ اہلِ علم اور خصوصاً علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے ’’زاد المعاد‘‘ میں آبِ زمزم کے فضائل وبرکات کے ساتھ ساتھ اس کے کئی مادی وباطنی فوائد بھی ذکر کیے ہیں، جن کی تفصیل ’’زاد المعاد‘‘ کی تحقیق والی طباعت (۴/ ۳۹۳، ۳۹۴) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ 6۔ آبِ زمز م کے فضائل و برکات اور فوائد و خواص کی اہمیت کا اندازہ تو اسی بات سے ہو جاتا ہے کہ ’’تاریخ کبیر امام بخاری‘‘ (۳/ ۱۸۹) سنن ترمذی، رقم الحدیث (۹۶۳) مستدرک حاکم (۱/ ۴۸۵) سنن بیہقی (۵/ ۲۰۲) اور مسند ابی یعلی (۴۹۲) میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آبِ زمزم کے مشکیزے بھر بھر کر ساتھ لے جایا کرتے تھے اور مریضوں [1] صحیح الجامع الصغیر (۱؍ ۴۷۸) رقم الحدیث (۲۴۳۰) [2] صحیح الجامع، رقم الحدیث (۳۳۲۲) [3] فقہ السنۃ (۱؍ ۱۸) الإرواء (۱؍ ۴۵) وحسنہ الألباني و صححہ أحمد شاکر في تحقیق المسند۔