کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 345
مسلم، سنن نسائی اور دارقطنی کی حضرت ابو جہم رضی اللہ عنہ والی حدیث ہے، جو مسلم شریف میں تعلیقاً اور دیگر کتب میں موصولاً مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بے وضو تھے اور کسی کے سلام کا جواب دینے کے لیے تیمم کیا: (( حَتَّیٰ أَقْبَلَ عَلٰی الْجِدَارِ )) ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیوار کی طرف متوجہ ہوئے۔‘‘ سنن دارقطنی میں مروی ہے: (( حَتَّیٰ وَضَعَ یَدَہٗ عَلَی الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْھِہٖ وَیَدَیْہِ )) [1] ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دیوار پر رکھے۔ پھر ان کو چہرہ مبارک پر اور باہم دونوں ہاتھوں پر مارا۔‘‘ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ان دو احادیث کے علاوہ ایک صحابی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا واقعہ بھی صحیح بخاری میں تعلیقاً مروی ہے، جسے امام شافعی رحمہ اللہ نے موصولاً بیان کیا ہے: (( تَیَمَّمَ فَمَسَحَ وَجْھَہٗ وَیَدَیْہِ، وَصَلَّی الْعَصْرَ )) [2] ’’انھوں نے تیمم کیا تو اپنے منہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا اور عصر کی نماز پڑھی۔‘‘ اس اثر اور مذکورہ احادیث میں تیمم کا طریقہ انتہائی واضح اندازسے آگیا ہے۔ پھونک مارنا: ان دونوں حدیثوں اور اثرِ صحابی میں سے صرف ایک حدیث میں زمین پر ہاتھ مارنے کے بعد ان میں پھونک مارنے کا بھی ذکر ہوا ہے۔ شارحینِ حدیث نے لکھا ہے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو کوئی چیز لگ گئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدشہ محسوس ہوا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ اقدس پر نہ لگ جائے۔ لہٰذا پھونک مار کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو گرا دیا، یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو مٹی کی مقدار کچھ زیادہ لگ گئی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کو اکٹھے کر کے ان میں ہلکی سی پھونک ماری، تاکہ مٹی کی مقدار میں تخفیف ہو جائے یا پھر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پھونک [1] صحیح البخاري مع الفتح (۱؍ ۴۴۱) صحیح مسلم مع شرح النووي (۴؍ ۶۳، ۶۴) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۱۹) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۰۰) المشکاۃ مع المرعاۃ (۱؍ ۵۹۷) التلخیص الحبیر (۱؍ ۱؍ ۱۴۹) [2] صحیح البخاري مع فتح الباري (۱؍ ۴۴۱) و التلخیص (۱؍ ۱؍ ۱۴۵)