کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 34
(( ھُوَ الطُّھُوْرُ مَاؤُہُ، اَلْحِلُّ مَیْتَتُہٗ )) [1] ’’سمندر کا پانی پاک و طاہر اور مطہر ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔‘‘ اس حدیث میں جہاں مذکورہ پانی کے طاہر و مطہر ہونے کا ثبوت ہے، وہیں بظاہر تمام بحری جانوروں کے حلال ہونے کا بھی پتا چلتا ہے، جیسا کہ شافعیہ کا مسلک ہے۔ البتہ یہ ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے، جس کی تفصیل تو کسی دوسرے موقع پر آئے گی، لیکن یہاں صرف اتنا ذہن میں رکھیں کہ مچھلی جو بحری جانوروں میں سے ہے، وہ زندہ شکار کی جائے تو بھی اسے ذبح کر نے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی اور اگر وہ بے جان حالت میں ہاتھ لگے تو بھی وہ بہرحال پاک و حلال ہے۔ اس حدیث کے الفاظ کہ ’’سمندر کا مردہ بھی حلال ہے۔‘‘ ان میں اس مچھلی کی طرف بھی اشارہ ہے۔ یوں حدیث شریف کے مذکو رہ الفاظ کا مفہوم بھی بہ آسانی سمجھ میں آجاتا ہے۔ تیسری قسم: مطلق وعام یا طاہر ومطہر پانی کے تحت آنے والی تیسری قسم آبِ زمزم ہے، اس تیسری قسم کے پانی (آبِ زمزم) کو تو صرف پاک و طاہر اور مطہرّ کہنا ہی کافی نہیں، بلکہ اس کے برعکس آبِ زمزم تو بڑے فضائل وبرکات والاپانی ہے۔ 1۔ جیسا کہ کتبِ حدیث میں سے مسند احمد میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: (( صَبَّ مَآئَ زَمْزَمَ عَلٰی رَأْسِہٖ )) [2] ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آبِ زمزم اپنے سر مبارک پر بھی ڈالا۔‘‘ 2۔ اسی آبِ زمزم کے بارے میں سنن ابن ماجہ، مسند احمد اور سنن بیہقی میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( مَآئُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَہٗ )) [3] [1] حوالہ جات سابقہ۔ نیز دیکھیں: صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۷۶) و صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۵۹) و صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۲۱) و سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۱۸۶) الموطأ مع شرحہ المسوی (۱؍ ۹۳) المنتقی مع النیل (۱؍ ۱؍ ۱۴) الفتح الرباني (۱؍ ۲۰۱) [2] مسند أحمد، الفتح الرباني (۱؍ ۲۰۳، ۱۲؍ ۷۲) [3] حسنہ الحافظ ابن حجر، و صححہ المنذري والدمیاطی، کما في الحاوي للفتاوٰی للسیوطي (۱؍ ۲۵۳) وصححہ الألباني في الإرواء (ص: ۱۲۳) و السلسلۃ الصحیحۃ، رقم الحدیث (۸۸۳)