کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 335
’’اللہ تمھیں جزاے خیر دے۔ اللہ کی قسم! جب کبھی کوئی ایسی بات رونما ہوئی ہے، جو تمھیں پسند نہ ہو، اللہ نے تمھارے لیے اس سے صاف بچ نکلنے کا راستہ بنا دیا اور صرف اسی پر بس نہیں کہ تمھارے لیے نکلنے کا راستہ بنایا، بلکہ اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کے لیے اس میں خیر و برکت رکھ دی۔‘‘ اس حدیث میں یہ الفاظ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کے تھے، جس کی بطورِ خاص وجہ یہ ہے کہ جو لوگ ہار کی تلاش میں بھیجے گئے تھے، یہ ان کے سربراہ تھے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کا رجحان اس طرف ہے کہ ہار گم ہونے کا یہ واقعہ اور ہے اور جس میں حضرت عائشہ صدیقہ، طیبہ و طاہرہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگی تھی، اس واقعہ میں بھی ہار گم ہوا تھا، لیکن وہ دوسرا الگ واقعہ ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے ’’فتح الباري‘‘ میں محمد بن حبیب کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہا ر غزوہ ذات الرقاع اور غزوہ بنی المصطلق میں الگ الگ دو مرتبہ گم ہوا تھا اور حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کے الفاظ اور اسی مفہوم کی بعض دیگر روایات نقل کرنے کے بعد انھوں نے لکھا ہے: ’’یہ اس بات کو قوت دیتی ہیں کہ نزولِ تیمم اور ہار کے گم ہونے والا یہ واقعہ تہمت اور ہار گم ہونے والے اس واقعے کے بعد کا ہے۔‘‘[1] بہر حال حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہارگم ہونے کی بدولت اُمتِ اسلامیہ کو تیمم کی رخصت مل گئی اور یہ برکاتِ آل ابی بکر رضی اللہ عنہم میں سے ایک برکت ہے۔ مقیم اور تیمم: یہ معروف اور عام سی بات ہے کہ سفر کے دوران میں پانی نہ ہونے کی شکل میں تیمم کیا جاسکتا ہے، جب کہ حضر میں مقیم کو بھی اجازت ہے کہ اگر وہ پانی نہ پائے اور پانی پا لینے تک نماز کے گزر جانے کا اندیشہ ہو تو وہ بھی تیمم کر کے نماز ادا کرسکتا ہے۔ صحیح بخاری میں امام صاحب نے ایک باب میں ان دونوں شرطوں کو ذکر کیا ہے، یعنی خروجِ وقت کا اندیشہ یا خدشہ اور پانی کا فقدان، جب کہ [1] فتح الباري (۱؍ ۴۳۴۔ ۴۳۵)