کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 334
محرک دیکھیں۔ چنانچہ صحیح بخاری و مسلم، سنن ابی داود، نسائی، ابن ماجہ اور مسندِ احمد میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں نکلے اور جب ہم مقامِ بیدا یا ذات الجیش پر تھے تو میرا ہار ٹوٹ کر کہیں گر گیا (دوسری روایت کے مطابق انھوں نے وہ اپنی چھوٹی بہن حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مستعار لے کر پہنا ہوا تھا) نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہار کی تلاش کے لیے رک گئے۔ دوسرے لوگ بھی رکے، جب کہ اس جگہ پانی تھا اور نہ لوگوں کے پاس ہی پانی تھا۔ لوگوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے جاکر شکایت کی کہ دیکھو! عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہونے کی وجہ سے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سارے لوگ رکے پڑے ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو سخت سُست کہا، اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی مشروعیت والی آیت نازل فرما دی۔ لہٰذا لوگوں نے تیمم کیا۔ اسی واقعہ اور آیتِ تیمم کے نزول پر حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (( مَا ھِيَ بِأَوَّلِ بَرَکَتِکُمْ یَا آلَ أَبِيْ بَکْرٍ )) ’’اے خاندانِ ابوبکر رضی اللہ عنہ ! یہ تمھاری کوئی پہلی برکت نہیں ہے (یعنی تم لوگ بڑے بابرکت ہو کہ تمھاری وجہ سے مسلمانوں کو کئی آسا نیاں میسر آئیں)۔‘‘ اسی حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جس اونٹ پر میں بیٹھی تھی، جب اسے اس کی جگہ سے اٹھایا گیا تو وہیں سے ہار مل گیا، جب کہ صحیح بخاری اور دیگر کتب میں ایک دوسری سند سے بھی یہ واقعہ مذکور ہے، جہاں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ ہار حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مستعار لینا ذکر ہوا ہے۔ اس میں مذکور ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہار کی تلاش میں لوگوں کو بھیجا۔ انھیں ہار تو مل گیا، مگر اسی دوران میں نماز کا وقت ہوگیا، جب کہ ان کے پاس پانی نہیں تھا، تو انھوں نے بغیر وضو ہی کے نماز پڑھ لی۔ واپس آئے تو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ماجرا سنایا، تب اللہ تعالیٰ نے تیمم والی آیت نازل فرما دی۔ اس پر حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مخاطب ہو کر فرمایا: (( جَزَاکِ اللّٰہُ خَیْراً، فَوَ اللّٰہِ مَا نَزَلَ بِکَ أَمْرٌ تَکْرَھِیْنَہٗ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللّٰہُ ذٰلِکَ لَکِ مِنْہُ مَخْرَجًا، وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِیْنَ فِیْہِ خَیْراً [وفي روایۃ: بَرَکَۃً] )) [1] [1] مختصر صحیح البخاري للألباني (ص: ۹۳۔ ۹۴) ومع فتح الباري (۱؍ ۴۳۱۔ ۴۴۰) صحیح مسلم معç çشرح النووي (۴؍ ۵۸) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۰۹) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۲۹۹) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۵۶۸) و المنتقیٰ مع النیل (۱؍ ۱؍ ۲۶۷)