کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 331
دیتے، کیوں کہ نا جائز اور باطل کام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر گز برقرار نہیں رکھا کرتے تھے۔ اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے امام ثوری، ابو حنیفہ، مالک اور ابن المنذر رحمہم اللہ نے کہا ہے کہ جس نے شدید سردی کے خوف سے تیمم کرکے نماز ادا کی، اس پر اس نماز کا اعادہ یعنی دوبارہ پڑھنا واجب نہیں رہا، کیوں کہ مذکورہ واقعہ سن کر نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عَمرو رضی اللہ عنہ کو نماز کے اعادے کا حکم نہیں فرمایا اور اگر یہ واجب ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرورحکم فرما دیتے۔[1] صحیح بخاری میں امام صاحب نے ایک باب قائم کر کے یہی حدیث تعلیقاً ذکر کی ہے اور اس باب میں لکھا ہے: ’’بَابٌ إِذَا خَافَ الْجُنُبُ عَلٰی نَفْسِہِ الْمَرْضَ أَوِ الْمَوْتَ أَوْ خَافَ الْعَطْشَ تَیَمَّمَ‘‘ [2] ’’اگر جنابت والا اپنے آپ پر مرض یا موت سے ڈرے یا (وضو و غسل میں پانی ختم ہو جانے کے نتیجے میں) پیاس کے خدشے میں ہو تو وہ تیمم کرلے۔‘‘ اعادۂ نماز کا وجوب اور عدمِ وجوب: یہاں اس بات کی تھوڑی سی وضاحت کرنے سے معلوم ہو جائے گا کہ نماز کے اعادے کے واجب نہ ہونے کے علاوہ بعض صورتوں میں واجب ہونے کی دلیل بھی موجود ہے۔ نماز پڑھی گئی اور اس کا وقت بھی نکل گیا، اب اسے دہرانے کی ضرورت نہیں، جیسا کہ ابھی گذشتہ حدیث میں ذکر ہواہے ۔ یہ ایک صورت ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ نماز تیمم کر کے ادا کرلی اور ابھی اس کا وقت باقی تھا کہ پانی بھی مل گیا، اس شکل میں بھی نماز کا دہرانا واجب نہیں ہے، جیساکہ سنن ابو داود، نسائی، دارمی، دارقطنی اور مستدرک حاکم میں مختلف فیہ سند کے ساتھ اور صحیح ابن سکن میں موصول و صحیح سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمی سفر پر نکلے اور نماز کا وقت ہوگیا، مگر ان دونوں کے پاس (وضو کے لیے) پانی نہیں تھا۔ ان دونوں نے تیمم کرکے نماز ادا کی۔ (( ثُمَّ وَجَدَا الْمَآئَ فِي الْوَقْتِ فَأَعَادَ أَحَدُھُمَا الْوُضُوْئَ وَالصَّلَاۃَ، وَلَمْ یُعِدِ الْآخَرُ )) [1] نیل الأوطار (۱؍ ۱؍ ۲۵۸) و المنتقیٰ (۱؍ ۱؍ ۲۵۹) [2] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: صحیح البخاري مع فتح الباري (۱؍ ۴۵۴۔ ۴۵۵)