کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 33
’’اے اللہ! مجھ میں اور میری خطاؤں میں اتنی دوری کر دے، جتنی دوری تو نے مشرق و مغرب کے مابین کی ہے۔ اے اللہ! مجھے خطاؤں سے اس طرح پاک کر دے، جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھ سے میری خطاؤں کو پانی، برف اور اولوں سے دھو دے۔‘‘ اس دعاے نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری کلمات بارش، اولوں اور برف سے حاصل ہونے والے پانی کے طاہر و مطہر ہونے کی واضح دلیل ہیں۔ اس حدیث میں مذکور اس دعا کے الفاظ کتنے پیارے ہیں! ہمیں بھی چاہیے کہ’’سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ‘‘کے ساتھ ساتھ اپنی نمازوں میں یہ دعا بھی کرتے رہیں، جس میں ثنا کے علاوہ خطاؤں سے طہارت کی دعا بھی شامل ہے۔ دوسری قسم: مطلق پانی کے تحت آنے والی دوسری قسم سمندر کا پانی ہے اور اسی کے حکم میں دریا اور نہروں کا پانی بھی آجاتا ہے۔ ایسے پانی کے طاہر و مطہر ہونے کی دلیل نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ ارشادِ گرامی ہے، جو سنن ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ، مسند احمد، موطا امام مالک، صحیح ابن خزیمہ و ابن حبان کے ساتھ ساتھ مستدرک حاکم، سنن دارقطنی، مصنف ابن ابی شیبہ اور سنن دارمی میں مذکور ہے اور اس حدیث کو کبار ائمہ حدیث میں سے امام بخاری، ترمذی، حاکم، ابن حبان اور ابن المنذر اور اسی طرح امام طحاوی، بغوی، خطابی، ابن مندہ اور دیگر کثیر محدّثینِ کرام رحمہم اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ [1] اس حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: (( اِنَّا نَرْکَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِیْلَ مِنَ الْمَآئِ فَاِنْ تَوَضَّأْنَا بِہٖ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَآئِ الْبَحْرِ؟ )) ’’ہم سمندر کا سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی لے جاتے ہیں۔ پس ہم اگر اس پانی سے وضو کریں تو خود پیاسے رہ جائیں۔ کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کریں؟‘‘ اس پر نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: [1] إرواء الغلیل (۱؍ ۴۳)