کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 324
انبیاء علیہم السلام پر چھے اشیا سے فضیلت دی گئی ہے۔ جن میں سے پہلی چیز ہے: (( أُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ )) ’’میں جوامع الکلم دیا گیا ہوں۔‘‘ دوسری: (( أُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ )) ’’میرے لیے غنیمت حلال کی گئی ہے۔‘‘ تیسری ہے: زمین کا مسجد اور طہارت ہونا۔ سنن ابن ماجہ میں صرف یہی مذکور ہے۔ چوتھی ہے: ساری مخلوقات کی طرف نبی مبعوث ہونا اور پانچویں ہے: (( وَخُتِمَ بِيَ النَّبِیُّون )) ’’میرے ساتھ نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔‘‘[1] 4۔سنن بیہقی اور مسند احمد میں اسی سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں چار چیزیں: ساری زمین کا مسجد و طہارت ہونا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاساری مخلوقات کا نبی ہونا، رعب و دبدبہ اور حلّتِ غنائم مذکور ہیں۔[2] 5۔اسی حدیث کی پانچویں روایت مسند احمد اور سنن دارمی میں مفصلاً اور سنن ابو داود میں مختصراً حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں پانچ اشیا کا ذکر ہے، جو سابقہ احادیث میں آگئی ہیں، البتہ اندازِ بیان الگ ہے۔ سنن ابو داود میں صرف تمام زمین کے مسجد و طہارت بنائے جانے کا ذکر کیا گیا ہے اور محدثینِ کرام کے نزدیک یہ پانچویں روایت بھی صحیح سند سے مروی ہے۔ 6۔چھٹی روایت مسند احمد میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حسن درجے کی سند سے مروی ہے۔ اس میں بھی پانچ چیزوں کا ذکر ہے۔ اس روایت میں اس بات کی وضاحت بھی ہے کہ پہلی امتوں کے لوگ اموالِ غنیمت استعمال نہیں کر سکتے تھے، بلکہ جلا دیتے تھے، لیکن میرے لیے وہ حلال کیے گئے ہیں اور پہلی اُمتوں کے لوگ صرف اپنے معبدوں اور کنیسوں ہی میں نماز پڑھ سکتے تھے، لیکن میرے لیے ساری زمین ہی مسجد اور ذریعہ طہارت بنا دی گئی ہے۔ 7۔ساتویں روایت مسند احمد میں حسن سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، جس کا مفہوم حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ والی روایت ہی کا ہے۔ 8۔آٹھویں روایت دلائل النبوۃ بیہقی اور مسند احمدمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں رعب و دبدبہ اور مٹی کے طہارت بنائے جانے کے علاوہ تیسری بات یہ ہے کہ مجھے زمین کی [1] صحیح مسلم مع شرح النووي (۵؍ ۵) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۲۵۷) الإرواء (۱؍ ۳۱۵) صحیح الجامع، رقم الحدیث (۴۲۲۲) [2] مختصر صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۵۷) الإرواء (۱؍ ۱۸۰۔ ۳۱۶) صحیح الجامع، رقم الحدیث (۳۲۲۲)