کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 322
الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآئَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآئً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْھِکُمْ وَ اَیْدِیْکُمْ مِّنْہُ مَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَھِّرَکُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ} ’’مومنو! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو، تو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (دھو لیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہا کر) پاک ہو جایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلاء میں سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمھیں پانی نہ مل سکے تو پاک مٹی لو اور اُس سے منہ اور ہاتھوں کا مسح (تیمم) کر لو، اللہ تعالیٰ تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنا چاہتا، بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمھیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے، تاکہ تم شکر ادا کرو۔‘‘ ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تیمم کی مشروعیت، اسباب، طریقہ اور حکمت؛ تمام امور بیان فرما دیے ہیں۔ آیتِ تیمم کے لفظ {فَتَیَمَّمُوْا} سے تیمم میں نیت کے وجوب پر بھی استدلال کیا گیا ہے۔ تمام فقہا کا (سوائے امام اوزاعی رحمہ اللہ کے) یہی قول ہے۔[1] تیمم اور احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم : قرآنِ کریم کی طرح حدیث شریف میں بھی ان امور کا تذکرہ آیا ہے۔ 1۔چنانچہ صحیح مسلم، مسندِ احمد اور سنن بیہقی میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( فُضِّلْنَا عَلٰی النَّاسِ بِثَلَاثٍ: جُعِلَتْ صُفُوْفُنَا کَصُفُوْفِ الْمَلَائِکَۃِ، وَجُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ کُلُّھَا مَسْجِداً، وَجُعِلَتْ تُرْبَتُھَا لَنَا طَھُوْراً، إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَآئَ )) [2] ’’ہمیں تین اشیا کے ساتھ دوسری امتوں کے لوگوں پر فضیلت دی گئی ہے: ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفیں قراردیا گیا ہے۔ ہمارے لیے تمام روے زمین مسجد بنادی گئی ہے اور [1] فتح الباري (۱؍ ۴۳۴) [2] صحیح مسلم مع شرح النووي (۵؍ ۴) مشکاۃ المصابیح (۱؍ ۱۶۴) المنتقیٰ مع النیل (۱؍ ۱؍ ۲۶۳) إرواء الغلیل (۱؍ ۳۱۶)