کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 317
(( صلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ بِوُضُوْئٍ وَّاحِدِ، وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ )) ’’فتح مکہ کے دن نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی وضو سے پانچ نمازیں ادا فرمائیں اور اس وضو میں اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔‘‘ یہ دیکھ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار فرمایا: (( [إنِّيْ رَأَیْتُکَ] لَقَدْ صَنَعْتَ [الْیَوْمَ] شَیْئًا لَمْ تَکُنْ تَصْنَعُہٗ )) ’’میں نے دیکھا ہے، آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا کا م کیا ہے، جو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کیا کرتے تھے۔‘‘ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اشارہ کئی نمازیں ایک وضو سے ادا کرنے کی طرف تھا) اس پر نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( عَمَداً صَنَعْتُہٗ یَا عُمُرُ )) [1]’’عمر! میں نے ایسا جان بوجھ کیا ہے۔‘‘ ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ ایک وضو کے ساتھ کئی نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں۔ ہر نماز کے ساتھ از سر نو وضو فرض اور واجب نہیں، البتہ یہ افضل ہے، کیوں کہ صحیح بخاری میں تعلیقاً، سنن نسائی، صحیح ابن خزیمہ اور مسند احمد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موصولاً مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰی أُمَّتِيْ لَأَمَرْتُھُمْ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ بِوُضُوْئٍ، وَمَعَ کُلِّ وُضُوْئٍ بِسِوَاکٍ )) [2] ’’اگر میں اپنی امت کے لیے باعثِ مشقت نہ سمجھتا تو انھیں حکم دے دیتا کہ وہ ہر نماز [1] مختصر صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۴۲) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۵۷) مختصر السنن للمنذري (۱؍ ۱۲۷) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۵۱) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۱۲۹) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۵۱۰) مشکاۃ المصباح (۱؍ ۱۰۱) صحیح الجامع، رقم الحدیث (۴۰۹۳) [2] صحیح البخاري مع الفتح، رقم الحدیث (۸۸۷) صحیح مسلم (۳؍ ۱۴۲) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۵) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۷) سنن ابن ماجہ (۲۸۷) صحیح الترغیب، رقم الحدیث (۲۰۰) صحیح الجامع، رقم الحدیث (۵۳۱۸) و الإرواء، رقم الحدیث (۷۲)