کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 316
رکعتوں کی پابندی سے یہ رتبہ پایا۔ ہمیں بھی یہ عادت ڈالنی چاہیے کہ جب بھی وضو کریں، اس سے کم از کم دو رکعت نفلی نماز ضرور ادا کریں۔ اَللّٰہُمَّ وَفِّقْنَا جَمِیْعاً۔ آمین۔ ایک وضو سے کئی نمازیں: اب ہم ایسی بات کا تذکرہ کرتے ہیں جو اگرچہ معروف ہے اور ممکن ہے، ہر کسی کو معلوم بھی ہو، لیکن اس بات کا بھی عین امکان ہے کہ بعض لوگوں کے لیے یہ بات نئی ہو۔ لہٰذا کم ازکم ان کے کام آجا ئے گی اور جنھیں معلوم ہے، ان کے ہاتھ اس کے دلائل آجائیں گے۔ لہٰذا ہر کس ونا کس کے لیے استفادے کا پہلو نکل آتا ہے۔ وہ بات یہ ہے کہ ایک وضو سے متعدد نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں۔ یہ امر جائز اور ثابت ہیں۔ چنانچہ صحیح بخاری، سنن ابوداود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت عمرو بن عامر البجلی بیان کرتے ہیں: (( سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ عَنِ الْوُضُوْئِ فَقَالَ: کَانَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَتَوَضَّأُ لِکُلِّ صَلَاۃٍ، وَکُنَّا نُصَلِّيْ الصَّلَوَاتِ بِوُضُوْئٍ وَّاحِدٍ )) [1] ’’میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وضو کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے جواب دیا کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر نماز کے لیے وضو فرمایا کرتے تھے اور ہم کئی کئی نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کر لیا کرتے تھے۔‘‘ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل مبارک تو افضل پر تھا، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم جواز و رخصت سے فائدہ اٹھا لیا کرتے تھے، کیوں کہ یہ جواز و رخصت بھی خود نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے عمل سے ثابت ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم، سنن ابو داود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: [1] صحیح البخاري مع الفتح، رقم الحدیث (۲۱۴) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۵۶) و اللفظ لہ، مختصر سنن أبي داود للمنذري (۱؍ ۱۲۷) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۵۰) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۵۰۹) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۱۲۷) المنتقیٰ مع النیل (۱؍ ۱؍ ۲۱۰) و صحیح الجامع، رقم الحدیث (۴۹۰۷)