کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 313
(( مَا أَذَّنْتُ إِلَّا صَلَّیْتُ رَکْعَتَیْنِ، وَمَا أَصَابَنِيْ حَدَثٌ قَطُّ إِلَّا تَوَضَّأْتُ عِنْدَھَا، فَقَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم : بِھٰذَا )) [1] ’’میں نے جب بھی اذان دی ہے، دورکعتیں ضرور پڑ ھی ہیں اور جب بھی بے وضو ہوا ہوں، اسی وقت وضو کر لیا ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی وجہ ہے۔‘‘ یعنی انہی دو رکعتوں کی وجہ سے یہ مقام ملا ہے۔‘‘ مسند احمد کی ایک روایت میں ہے: (( مَا أَحْدَثْتُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ وَصَلَّیْتُ رَکْعَتَیْنِ )) [2] ’’میں جب بھی بے وضو ہوا ہوں، اسی وقت میں نے وضو کیا اور دو رکعتیں پڑھی ہیں۔‘‘ اس حدیث سے وضو کے بعد پڑھی جانے والی دو رکعتوں کی فضیلت واضح ہوگئی۔ یہاں ایک بات اور بھی واضح کر دیں کہ عموماً معروف تو یہ ہے کہ یہ واقعہ جو جنت میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے قدموں کی چاپ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنی، یہ معراج کا واقعہ ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے، بلکہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ ’’فتح الباري‘‘ میں لکھتے ہیں: (( عِنْدَ صَلَاۃِ الْفَجْرِ )) یعنی نماز فجر کے وقت کے الفاظ میں اس بات کی طرف اشارہ موجود ہے کہ یہ واقعہ معراج کا نہیں، بلکہ خواب کا ہے، ورنہ نمازِ فجر کے وقت یہ بات پوچھنے کا کیا معنیٰ ہوا؟ آگے لکھتے ہیں کہ صحیح مسلم کی روایت میں: (( سَمِعْتُ دُفَّ نَعْلَیْکَ )) کے بجائے (( سَمِعْتُ اللَّیْلَۃَ دُفَّ نَعْلَیْکَ )) آیا ہے کہ ’’آج رات میں نے تمھارے جوتوں کی چاپ سنی ہے۔‘‘ یہاں ’’آج رات‘‘ کے الفاظ بھی اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ یہ واقعہ معراج کا نہیں، بلکہ خواب کا ہے۔ [3] پھر خواب میں بھی یہ واقعہ کوئی ایک بارہی پیش نہیں آیا، بلکہ کئی بار یہ واقعہ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش آیا تھا، چنانچہ سنن ترمذی اور مسند احمد میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: [1] صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۹۱۲) صحیح الترغیب، رقم الحدیث (۱۹۶) إرواء الغلیل أیضاً۔ [2] إرواء الغلیل أیضاً۔ [3] فتح الباري (۳؍ ۳۴)