کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 311
تولیے کے استعمال کو مکروہ کہنے والوں کی ایک دلیل ’’الناسخ والمنسوخ لابن شاھین‘‘ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے، جس میں وہ بیان کرتے ہیں: (( إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم لَمْ یَکُنْ یَمْسَحُ وَجْھَہٗ بِالْمِنْدِیْلِ بَعْدَ الْوُضُوْئِ، وَلَا أَبُوْ بَکْرٍ، وَلَا عُمَرُ، وَلَا ابْنُ مَسْعُوْدٍ )) [1] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم وضو کے بعد رومال سے چہرہ نہیں پونچھا کرتے تھے۔‘‘ لیکن حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’التلخیص الحبیر‘‘ میں اس حدیث کو نقل کر کے ضعیف قرار دیا ہے۔ لہٰذا اس سے استدلال درست نہیں۔[2] ان کے علاوہ تولیے وغیرہ کے استعمال کی کراہت کے بعض دوسرے دلائل بھی ذکر کیے گئے ہیں۔ مثلاً یہ کہ وضو کا پانی قیامت کے دن نور ہوگا، لہٰذا اسے پونچھنا نہیں چاہیے، حالانکہ ان کی یہ بات کراہت کی دلیل نہیں بن سکتی، کیوں کہ اوّل تو اس سے مراد وہ پانی ہے، جو وضو کے لیے استعمال ہوتا ہے نہ کہ صرف وہ پانی جو وضو کے بعد اعضاے وضو پر باقی رہے۔ دوسرے اس پانی کو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے جھاڑا تھا، جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے تو پھر اس کا کپڑے سے پونچھنا کیسے مکروہ ہو سکتا ہے؟ کیوں کہ جھاڑنا اور پونچھنا ایک ہی تو ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وضو ایک عبادت ہے اور وضو کے اعضا سے پانی کو پونچھنا آثارِ عبادت کو زائل کرنا ہے، لہٰذا مکروہ ہے تو اس سلسلے میں بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ غسل بھی عبادت ہے اور غسل کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھوں سے پانی جھاڑنا صحیح احادیث سے ثابت ہے تو پونچھنے کو مکروہ کیسے کہا جاسکتا ہے، جب کہ یہ دونوں طریقے ہی آثارِ عبادت کو زائل کرنے والے ہیں؟ ایسے ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ وضو کا پانی جب تک اعضا کے اوپر رہے، وہ تسبیح بیان کرتا ہے، لہٰذا اس کا پونچھنا مکروہ ہے۔ اس کے جواب میں حضرت ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ یہ بھی کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں کہ جب پانی کو پونچھ دیا جائے تو وہ تسبیح بند کر دیتا ہے۔[3] [1] التلخیص الحبیر (۱؍ ۱؍ ۹۸) [2] التلخیص الحبیر (۱/ ۱/ ۹۸) تحفۃ الأحوذي (۱؍ ۱۷۸) [3] دیکھیں: تحفۃ الأحوذي (۱؍ ۱۷۷)