کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 307
4۔چوتھی یہ کہ اس کا استعمال مستحب ہے، کیوں کہ اس میں میل کچیل سے احتراز اور نظافت کا پہلو پایا جاتا ہے۔ 5۔پانچویں رائے یہ ہے کہ موسمِ گرما میں تو تولیے کا استعمال مکروہ ہے، مگر سرما میں نہیں۔ سرما میں یہ مباح ہے۔[1] علامہ احمد عبد الرحمن البنا نے ’’الفتح الرباني ترتیب و شرح مسند أحمد الشیباني‘‘ (۱/ ۲/ ۱۳۷) میں، علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ نے ’’تحفۃ الأحوذي شرح سنن الترمذي‘‘ (۱/ ۷۸) میں اور علامہ عبید اللہ رحمانی نے ’’المرعاۃ شرح المشکاۃ‘‘ ( ۱/ ۴۸۳۔ ۴۸۴) میں تولیے کے استعمال کے جائز ہونے کو راجح قرار دیا ہے۔ علامہ عینی رحمہ اللہ کا رجحان ’’عمدۃ القاري‘‘ (۲/ ۳/ ۱۹۴ ۔۱۹۵) میں اور امام شوکانی رحمہ اللہ کا میلان ’’نیل الأوطار‘‘ (۱/ ۱/ ۲۰۸۔ ۲۰۹) میں عدمِ کراہت کی طرف ہی ہے اور یہی اقرب الی الصواب بات ہے، کیوں کہ کراہت کی کوئی صریح اور صحیح دلیل نہیں ہے، جو ہے وہ یا صریح نہیں یا صحیح نہیں۔ مکروہ کہنے والوں کے دلا ئل اور ان کا جائزہ: تولیے کا استعمال مشروع اور جائز ہے، جب کہ بعض کے نزدیک یہ مکروہ ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے دلائل بھی ذکر کیے جائیں اور ان پر اہلِ علم کا تبصرہ وغیرہ نقل کر کے ان کا جائزہ لیا جائے۔ چنانچہ ان کے دلائل میں سے ایک تو صحیح بخاری اور دیگر کتبِ حدیث میں مذکور وہ حدیث ہے، جس میں اُم المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسلِ جنابت کا واقعہ بیان فرماتی اور آخر میں بتاتی ہیں: (( ثُمَّ أَتِيَ بِمِنْدِیْلٍ فَلَمْ یَنْفُضْ بِھَا )) [2] ’’پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رومال یا تولیا دیا گیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے (اپنے بدن کو) خشک نہیں کیا۔‘‘ صحیح ابن خزیمہ میں مذکور ہے: [1] شرح صحیح مسلم للنووي (۲؍ ۳؍ ۲۳۱) [2] صحیح البخاري مع عمدۃ القاري (۲؍ ۳؍ ۲۰۶) و صحیح مسلم مع شرح النووي (۲؍ ۳؍ ۲۳۱)