کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 305
(( أَتَانَا النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَوَضَعْنَا لَہٗ مَآئً ا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ أَتَیْنَاہُ بِمِلْحَفَۃٍ وَرْسِیَّۃٍ فَاشْتَمَلَ بِھَا فَکَأَنِّيْ أَنْظُرُ إِلٰی أَثَرِ الْوَرْسِ عَلَیْہِ )) [1] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی رکھا، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا، پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ورس لگا ہوا کپڑا (تولیے) دیا، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم سے لپٹا لیا، میں گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ورس کا نشان دیکھ رہا ہوں۔‘‘ وضو کے بعد: ان دونوں حدیثوں میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا غسل کے بعد اپنے بدن کو کپڑے سے سکھانے کا ذکر ہے، وضو کے بعد کا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شارح ترمذی علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ان احادیث سے وضو کے بعد تولیے کے استعمال کے جواز پر استدلال میں انھیں تامّل ہے، جب کہ خاص وضو کے بعد نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تولیے سے اعضاے وضو کو پونچھنے کا ذکر متعدد احادیث میں آیا ہے، جن میں سے سنن ترمذی، ابن ماجہ، دارقطنی اور بیہقی میں کئی صحابہ و صحابیات کی روایات موجود ہیں۔[2] لیکن ان احادیث میں سے محدثینِ کرام کے نزدیک کوئی بھی ضعف سے خالی نہیں۔ حتیٰ کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اس موضوع کی کوئی بھی صحیح حدیث نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ البتہ علامہ عینی رحمہ اللہ نے ’’عمدۃ القاري‘‘ میں امام نسائی رحمہ اللہ کی کتاب ’’الکنیٰ‘‘ کے حوالے سے ایک حدیث نقل کی ہے اور اس کی سند کو بھی صحیح قرار دیا ہے، جس میں ایک صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ابو مریم ایاس بن جعفر بیان کرتے ہیں: 1۔(( إِنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم کَانَ لَہٗ مِنْدِیْلٌ أَوْ خِرْقَۃٌ، یَمْسَحُ بِھَا وَجْھَہٗ إِذَا تَوَضَّأَ )) [3] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک (رومال) یا کپڑا تھا، جس سے آپ وضو کے بعد چہرہ مبارک پونچھا کرتے تھے۔‘‘ [1] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۶۶) و صححہ ابن حزم، قالہ العیني۔ دیکھیں: تلخیص الحبیر (۱؍ ۹۹) [2] دیکھیں: سنن الترمذي مع التحفۃ (۱؍ ۱۷۴۔ ۱۷۹) سنن ابن ماجہ (۱؍ ۱۵۸) سنن الدارقطني (۱؍ ۱؍ ۱۱۰) تلخیص الحبیر (۱؍ ۱؍ ۹۸، ۹۹) [3] عمدۃ القاري (۲؍ ۳؍ ۱۹۵) دار الفکر۔ بیروت۔