کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 300
فرماتے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( جَائَ نِيْ جِبْرِیْلُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْتَضِحْ )) [1] ’’حضرت جبرائیل علیہ السلام میر ے پاس آئے اور کہنے لگے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کریں تو چھینٹا مارا کریں۔‘‘ اس حدیث کی سند کے ایک راوی حسن بن علی ہاشمی ہیں، جن پر امام بخاری، ترمذی، نسائی، احمد، ابو حاتم اور دارقطنی نے کلام کیا ہے۔ اسی حدیث کو ضعیف السند قرار دیتے ہوئے ’’تحفۃ الأحوذي‘‘ کے مولف نے لکھا ہے کہ اس موضوع کی متعدد احادیث ہیں، جن کا مجموعہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان کی کوئی اصل ہے۔[2] 3۔ایک تیسری حدیث حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ سے سنن ابن ماجہ، دارقطنی اور مسندِ احمد میں مروی ہے، جس میں وہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں: (( إِنَّ جَبِْرِیْلَ أَتَاہُ أَوَّلَ مَا أُوْحِیَ إِلَیْہِ فَعَلَّمْہُ الْوُضُوْئَ وَالصَّلَاۃَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الْوُضُوْئِ أَخَذَ غَرْفَۃً مِنْ مَّائٍ فَنَضَحَ بِھَا فَرْجَہٗ )) [3] ’’حضرت جبرائیل علیہ السلام نزولِ وحی کے آغاز ہی میں ایک مرتبہ آئے، تو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو اور نماز کا طریقہ سکھلایا۔ جب وہ وضو سے فارغ ہوئے تو انھوں نے پانی کا چلو لیا اور شرم گاہ پر چھینٹا مارا۔‘‘ سنن ابن ماجہ میں یہ الفاظ ہیں: (( عَلَّمَنِيْ جِبْرِیْلُ الْوُضوْئَ، وَأَمَرَنِيْ أَنْ أَنْضَحَ تَحْتَ ثَوْبِيْ لِمَا یَخْرُجُ مِنَ الْبَوْلِ بَعْدَ الْوُضُوْئِ )) [4] ’’جبرائیل علیہ السلام نے مجھے وضو سکھایا تو اس بات کا حکم دیا کہ میں اپنے کپڑے کے نیچے چھینٹا ماروں، جو وضو کے بعد نکلنے والے پیشاب کے قطرے کا علاج ہے۔‘‘ [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۵۰) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۶۴) و مشکاۃ المصابیح (۱؍ ۱۱۸) [2] سنن الترمذي و التحفۃ (۱؍ ۱۶۹) [3] سنن الدار قطني مع التعلیق المغني (۱؍ ۱؍ ۱۱۱) مشکاۃ المصابیح (۱؍ ۱۱۷۔ ۱۱۸) [4] سنن ابن ماجہ (۱؍ ۱۵۷) تحقیق محمد فؤاد۔