کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 299
’’وَفِيْ الْبَابِ أَحَادِیْثُ عَدِیْدَۃٌ، مَجْمُوْعُھَا تَدُلُّ عَلٰی أَنَّ لَہٗ أَصْلًا‘‘[1] ’’اس موضوع کی احادیث متعدد ہیں اور ان سب کا مجموعہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس حدیث کی کوئی اصل ضرور ہے۔‘‘ جب کہ دورِ حاضر کے معروف محدث علامہ البانی رحمہ اللہ نے مشکوٰۃ شریف کی تحقیق میں اس حدیث کی سند کو شدید اضطراب کی وجہ سے ضعیف قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: ’’لٰکِنَّ الْحَدیْثَ صَحِیْحٌ لِشَوَاھِدہ‘‘ ’’لیکن یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔‘‘ آگے لکھتے ہیں کہ ان شواہد میں سے میں نے بعض ’’سنن أبي داود‘‘ (ص: ۱۵۹) میں ذکر کیے۔ ایک شاہد تو ’’مشکاۃ المصابیح‘‘ ہی میں (حدیث نمبر ۳۶۶) ہے، جس کی سند کو موصوف نے حسن درجے کی قرار دیا ہے۔ اس فنّی تفصیل سے معلوم ہوا کہ چھینٹا مارنے کی مشروعیت پر دلالت کرنے والی احادیث مجموعی طور پر صحیح ہیں، اگرچہ انفرادی طو پر ان کی اسانید متکلم فیہ ہیں۔ 1۔ان میں سے پہلی حدیث سنن ابو داود، نسائی اور ابن ماجہ میں مروی ہے، جس میں حَکم بن سفیان یا سفیان بن حَکم ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (( کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم إِذَا بَالَ یَتَوَضَّأَ وَ یَنْتَضِحُ )) وَفِيْ رِوَایَۃ: (( ثُمّ نَضَحَ فَرْجَہٗ )) [2] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر نے کے بعد وضو کرتے، پھر شرم گاہ پر چھینٹا بھی مارتے۔‘‘ ایک روایت میں ہے: ’’پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرم گاہ پر چھینٹا مارا۔‘‘ امام ترمذی، منذری اور ابن عبدالبر نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے، لیکن شواہد کی بنا پر شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔[3] 2۔ایک حدیث سنن ترمذی وابن ماجہ میں مروی ہے، جس میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان [1] تحفۃ الأحوذي (۱؍ ۱۶۹) [2] صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۵۲) مختصر سنن أبي داود للمنذري مع معالم السنن و التہذیب (۱؍ ۱۲۵۔ ۱۲۶) صحیح سنن النسائي (۱۳۰۔ ۱۳۱) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۶۱) [3] مختصر السنن أیضاً، تحقیق المشکاۃ (۱؍ ۱۱۶) و سنن الترمذي مع تحفۃ الأحوذي (۱؍ ۱۶۹۔ ۱۷۰)