کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 297
بھی ہے جہاں الفاظ یوں ہیں: (( شَرِبَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَائِمًا مِنْ زَمْزَمَ )) [1] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے آبِ زمزم پیا۔‘‘ 3۔صحیح بخاری، سنن ترمذی، نسائی، مسند احمد اور مسند ابی داود طیالسی میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا واقعہ مذکور ہے کہ انھوں نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر لوگوں کی حاجتیں سننے کے لیے کوفے کی ایک کھلی جگہ پر کچہری لگائی، یہاں تک کہ نمازِ عصر کا وقت ہوگیا۔ آپ کوپانی لا کر دیا گیا۔ آپ نے اس میں سے کچھ پیا، پھر چہرہ اور ہاتھ دھوئے۔ سر (کے مسح) اور پاؤں (کے دھونے) کا بھی ذکر ہے۔ آگے راویِ حدیث بیان کر تے ہیں: (( ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَہُ وَھُوَ قَائِمٌ )) ’’پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور وضو سے بچا ہوا پانی پیا۔‘‘ پھر اس کے بعد فرمایا: (( إِنَّ نَاسًا یَکْرَھُوْنَ الشُّرْبَ قَائِمًا، وَإِنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ )) [2] ’’بعض لوگ کھڑے ہو کر پینے کو برا سمجھتے ہیں، حالانکہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا جس طرح میں نے کیا ہے۔‘‘ دوسری روایت کے الفاظ ہیں: (( وَإِنِّيْ رَأَیْتُ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَعَلَ کَمَا رَأَیْتُمُوْنِيْ فَعَلْتُ )) ’’میں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا، جس طرح کر تے آپ لوگوں نے مجھے دیکھا ہے۔‘‘ یہاں آبِ زمزم کے سلسلے میں تو صرف اتنی سی بات پیشِ نظر رکھیں کہ بعض لوگ اس حدیث کی بنا پر آبِ زمزم کو کھڑے ہو کر پینا اس کے آداب میں سے شمار کر تے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے، [1] صحیح البخاري مع الفتح (۱۰؍ ۸۱) [2] صحیح البخاري مع الفتح (۱۰؍ ۸۱) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۴۴، ۴۵) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۱۶۲) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۱۲۶، ۱۳۲)