کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 296
’’نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔‘‘ 3۔صحیح مسلم ہی میں ایک تیسری حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں ارشادِ نبوی ہے: (( لَا یَشْرَبَنَّ أَحَدٌ مِّنْکُمْ قَائِمًا فَمَنْ نَسِيَ فَلْیَسْتَقِيْ )) [1] ’’تم میں سے کھڑ ے ہو کر کوئی ہر گزنہ پیے اور اگر کوئی بھول کر پی بیٹھے تو اسے چاہیے کہ قَے کر دے۔‘‘ معمولی فرق کے ساتھ یہی حدیث مسند احمد اور ابن حبان میں بھی مروی ہے۔ 4۔صحیح مسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اور حدیث میں ہے: (( إِنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم نَھٰی أَنْ یَّشْرَبَ الرَّجُلَ قَائِمًا )) [2] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر کچھ پیے۔‘‘ اسی حدیث کے آخر میںحضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کھڑ ے ہوکر کھانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا: ’’ذَاکَ أَشَرُّ أَوْ أَخْبَثُ‘‘[3]’’یہ تو اور بھی بدتر یا خبیث تر ہے۔‘‘ یہ سب احادیث تو عام آدابِ اکل و شرب کا پتا دے رہی ہیں، جب کہ بعض صورتوں میں کھڑے ہو کر پینا بھی جائز ہے۔ 1۔مثلاً صحیح مسلم میں، جہاں مذکورہ چاروں احادیث وارد ہوئی ہیں، ان میں سے اگلے ہی باب میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں: (( سَقَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَھُوَ قَائِمٌ )) [4] ’’نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کومیں نے آبِ زمزم پلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے ہی پی لیا۔‘‘ 2۔جب کہ یہی حدیث ’’صحیح البخاري، کتاب الأشربۃ، باب الشرب قائماً‘‘ میں [1] صحیح مسلم مترجم (۵؍ ۲۶۳) السلسلۃ الصحیحۃ (۱؍ ۲؍ ۱۲۶) طبع المکتب الاسلامي۔ [2] صحیح مسلم مترجم (۵؍ ۲۶۲) صحیح الجامع، رقم الحدیث (۶۸۲۹) [3] صحیح مسلم تحقیق محمد فؤاد عبد الباقي (۳؍ ۱۶۰۰، ۱۶۰۱) فتح الباري (۱۰؍ ۸۲) و الصحیحۃ (۱؍ ۲؍ ۱۲۸) [4] صحیح مسلم (۳؍ ۱۶۰۱) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۴۲۲)