کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 294
-13 ترتیب اعضاے وضو کو دھونے میں موالات و تسلسل کی طرح ہی ترتیبِ اعضا کا مسئلہ بھی ہے۔ اہلِ علم میں ترتیب کے بارے میں بھی دو مسلک ہیں۔ ایک یہ کہ اعضاے وضو کو دھونے میں ترتیب واجب ہے۔ یہ مسلک امام احمد بن حنبل، امام شافعی، ابو ثور اور ابو عبید رحمہم اللہ کا ہے۔ ان کے نزدیک آیتِ وضو میں ایک قرینہ موجود ہے، جو ترتیب کے وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ ایسے ہی ان کا کہنا ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ جس نے بھی بیان کیا ہے، ترتیب وار ہی بیا ن کیا ہے۔ سنن ابن ماجہ، دارقطنی، بیہقی، مسند ابو یعلیٰ اور مسند احمد والی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ولاء والی روایت سے بھی استدلال کیا جاتا ہے، مگر جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے، وہ حدیث سخت ضعیف ہے۔[1] یہی وجہ ہے کہ ایک روایت میں امام احمد بن حنبل، اسی طرح امام مالک، امام سفیان ثوری اور احناف رحمہم اللہ کا مسلک عدمِ وجوب کا ہے۔ حضرت سعید بن مسیب، امام عطاء اور حسن بصری رحمہم اللہ بھی عدمِ وجوب کے قائل ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ، مکحول، زہری، نخعی اور اوزاعی رحمہم اللہ سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص سر کا مسح کرنا بھول جائے اور اس کی ڈاڑھی میں تری باقی ہو تو وہ اس تری سے سر کا مسح کرلے۔[2] انھوں نے اسے دوبارہ پاؤں دھونے کا حکم نہیں دیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک ترتیب واجب نہیں۔ امام ابن المنذر کا اختیار بھی یہی ہے، جب کہ مغنی ابن قدامہ میں حضرت علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما کے آثار نقل کیے گئے ہیں، جو ترتیب کے غیر واجب ہونے کا پتا دیتے ہیں۔[3] امام شوکانی رحمہ اللہ نے بھی سنن دار قطنی، بیہقی، مسندِ احمد اور مصنف ابن ابی شیبہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ [1] إرواء الغلیل (۱؍ ۱۲۵۔ ۱۲۶) نیل الأوطار (۱؍ ۱؍ ۲۰۶) [2] مجمع الزوائد میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً ڈاڑھی کی تری والی بات طبرانی اوسط کے حوالے سے مروی ہے، مگر علامہ ہیثمیa نے لکھا ہے کہ اس کی سند میں ’’نہشل بن سعید‘‘ ہے، جو کذاب ہے۔ (مجمع الزوائد: ۱؍ ۱؍ ۲۴۵ بیروت) [3] المغني (۱؍ ۱۸۹۔ ۱۹۱) وبہ قال الألباني في الإرواء (۱؍ ۱۲۹)