کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 285
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کو مسح کا طریقہ سکھلاتے ہوئے دکھایا کہ وہ اپنے ہاتھ سے موزے کے اگلے حصّے سے لے کر پنڈلی شروع ہونے کی جگہ تک ایک مرتبہ مسح کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دکھلاتے ہوئے اپنی انگلیوں کو کھول کر ایک دوسرے سے الگ رکھا۔‘‘ لیکن اس روایت کو حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے سخت ضعیف کہا ہے۔[1] یہ تینوں روایات ہم نے محض تنبیہ کے لیے ذکر کر دی ہیں، ورنہ ان میں سے کوئی ایک بھی قابلِ استدلال ہے نہ کیفیت و کمیت کے بارے میں دوسری کوئی روایت ہے، جس پر اعتماد کیا جاسکے، لہٰذا امیر یمانی کے بقول اگر کوئی شخص اپنے موزے (یا جراب) پر اس طرح ہاتھ پھیر لے، جسے لغوی اعتبار سے مسح کرنا کہا جا سکتا ہو تو وہ کفایت کر جائے گا، خواہ وہ کسی طرح بھی کرلے۔[2] مسح کی مدت: اب رہی یہ بات کہ جب وضو کرکے موزے یا جرابیں پہن لی جائیں تو کتنے عرصے کے لیے ان پر مسح کیا جاسکتا ہے؟ اس سِلسلے میں دس سے زیادہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں، جن سے پتا چلتا ہے کہ مقیم کے لیے ایک دن رات یعنی چوبیس ۲۴ گھنٹے اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں یعنی بہتّر(۷۲) گھنٹے تک ان موزوں یا جرابوں پر مسح کرلینے کی گنجایش ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم، سنن نسائی، ابن ماجہ، صحیح ابن حبان اور مسندِ احمد میں شریح بن ہانی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور موزوں پر مسح کی مدّت کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ تم ابن ابی طالب یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جاؤ اور ان سے جاکر پوچھو، کیوں کہ وہ سفر میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہونے کی وجہ سے اس بات کو مجھ سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ میں ان کے پاس گیا اور ان سے مسح کی مدّت کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا: (( جَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ وَلَیَالِیْہِنَّ لِلْمُسَافِرِ، وَیَوْماً وَلَیْلَۃً لِلْمُقِیْمِ )) [3] [1] سُبل السلام (۱/ ۱/ ۵۹) التلخیص الحبیر (۱/ ۱/ ۱۶۰۔ ۱۶۱) [2] سبل السلام (۱/ ۸۹) طبع مکتبہ عاطف۔ ازہر۔ [3] صحیح مسلم مع شرح النووي (۲/ ۳/ ۱۷۶) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۱۲۴) سنن ابن ماجـہ، رقم الحدیث (۵۵۲) المشکاۃ مع المرعاۃ (۱/ ۵۷۵)