کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 284
موزے یا جراب کے اوپر پاؤں کی انگلیوں والی جگہ سے لے کر ان کے پنڈلی پر چڑھنے والے حصے تک اس طرح لے جائیں، گویا خط کھینچا جا رہا ہے یا کوئی لکیریں بنا رہا ہے، اس طرح بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے بائیں پاؤں کی انگلیوں سے لے کر پنڈلیوں کے شروع والی جگہ تک مسح کریں۔[1] لیکن چونکہ یہ روایات متکلم فیہ ہیں، لہٰذا اس کیفیت کا التزام واجب نہیں، بلکہ کسی بھی طرح مسح کرلیں، مسح ہو جائے گا، البتہ مذکورہ طریقہ اختیار کرنا اولیٰ ہے۔ ان ضعیف اور ناقابلِ استدلال روایات میں سے ایک سُنن کبریٰ بیہقی میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں وہ بیان کرتے ہیں: (( إِنَّہٗ صلی اللّٰه علیہ وسلم مَسَحَ عَلَیٰ خُفَّیْہِ، وَوَضَعَ یَدَہٗ الْیُمْنٰی عَلَیٰ خُفِّہٖ الأَْیْمَنِ، وَیَدَہٗ الْیُسْریٰ عَلَیٰ خُفِّہٖ الأَْیْسَرِ، ثُمَّ مَسَحَ أَعْلاَہُمَا مَسْحَۃً وَّاحِدَۃً، کَأَنِّي أَنْظُرُ أَصَابِعَہٗ عَلَی الْخُفَّیْنِ )) ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں موزے پر اپنا دایاں ہاتھ اور بائیں موزے پر اپنا بایاں ہاتھ رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں موزوں کے اُوپر صرف ایک بارمسح کیا، گویا میں موزوں پر آپ کی انگلیاں دیکھ رہا ہوں۔‘‘ لیکن اس روایت کو محدّثین میں سے امیر صنعانی رحمہ اللہ نے منقطع قرار دیا ہے۔ اس موضوع کی دوسری روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں وہ بیان فرماتے ہیں: (( إِنَّہٗ رَأَیٰ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَمْسَحُ عَلَی ظَہْرِ الخُفِّ خُطُوْطاً بِالْأَصَابِعِ )) ’’انھوں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزے کے اوپر مسح کرتے دیکھا، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم انگلیوں سے لکیریں لگا رہے ہیں۔‘‘ امام نووی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں کہا ہے کہ یہ ضعیف ہے۔ اسی سلسلے کی ایک تیسری روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں وہ بیان فرماتے ہیں: (( إِنَّہٗ صلی اللّٰه علیہ وسلم أَرَیٰ بَعْضَ مَنْ عَلَّمَہٗ الْمَسْحَ أَنْ یَّمْسَحَ بِیَدِہٖ مِنْ مُقَدَّمِ الْخُفَّیْنِ إِلَی أَصْلِ السَّاقِ مَرَّۃً، وَفَرَّجَ بَیْنَ أَصَابِعِہٖ )) [1] سُبل السلام (۱/ ۱/ ۵۹)