کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 283
جرابوں پر مسح صرف اسی صورت میں جائز ہے کہ جب انھیں با وضو ہونے کی حالت میں پہنا گیا ہو، کیوں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک سفر کے دوران میں مَیں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرمانے لگے تو میں برتن سے پانی ڈال رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب چہرہ اقدس اور بازوؤں کو دھو لیا اور سر اقدس کا مسح کر لیا تو میں جھکا کہ آپ کے موزے اتاروں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( دَعْہُمَا فَإِنِّيْ أَدْخَلْتُہُمَا طَاہِرَتَیْنِ فَمَسَحَ عَلَیْہِمَا )) [1] ’’انھیں رہنے دو، کیوں کہ میں نے یہ طہارت کی حالت میں پہنے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کر لیا۔‘‘ مقامِ مسح: موزوں یا جرابوں پر مسح بظاہر تو پاؤں کی نچلی جانب چاہیے، مگر مسنون یہ ہے کہ پاؤں کے تلوؤں کے بجائے ان کے اوپر والے حِصّے پر مسح کر لیا جائے، کیوں کہ سنن ابی داود و دارقطنی، مسند احمد، سنن بیہقی، دارمی اور محلّی ابن حزم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا: (( لَوْ کَانَ الدِّیْنُ بِالرَّأْيِ لَکَانَ أَسْفَلَ الْخُفِّ أَوْلیٰ بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلاَہُ وَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَمْسَحُ عَلَیٰ ظَاہِرِ خُفَّیْہِ )) [2] ’’اگر دین کی بنیاد عقل و قیاس پر ہوتی تو موزوں کے نیچے مسح کرنا ان کے اُوپر مسح کرنے سے اولیٰ تھا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم موزوں کے اُوپر مسح کرتے تھے۔‘‘ کیفیتِ مسح: مسح کرنے کا طریقہ و کیفیت کیا ہے؟ اس سلسلے میں متعدد احادیث مروی ہیں، لیکن وہ سبھی متکلَّم فیہ ہیں، لیکن ان کا مجموعی مفاد یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کی گیلی انگلیاں کھول کر دائیں پاؤں کے [1] صحیح البخاري مع الفتح (۱/ ۳۰۹) صحیح مسلم مع شرح النووي (۳/ ۱۷۰) المنتقی (۱/ ۱/ ۱۸۰) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۳۷) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۸۵) [2] صححہ الحافظ في التلخیص (۱/ ۱/ ۱۶۰) و الألباني في الإرواء (۱/ ۱۴۰) و تحقیق المشکاۃ (۱/ ۶۳)