کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 280
کے عمل مبارک کا حوالہ دیا کرتے تھے اور بالآخر خود امام صاحب جو پہلے جواز کے قائل نہیں تھے، وہ بھی صاحبین کے قول کی طرف رجوع کرکے جواز کے قائل ہوگئے، ان کے اس رجوع کی تفصیل ہدایہ کے حاشیے پر مولانا عبدالحی حنفی لکھنوی نے ذکر کی ہے۔ موصوف لکھتے ہیں: ’’امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اپنی آخری بیماری میں اپنے شاگردوں کے سامنے وضو فرمایا، جب کہ آپ نے جرابیں پہنی ہوئی تھیں۔ اس وقت آپ نے وضو کرکے جرابوں پر مسح کیا اور اپنے شاگردوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں نے یہ عمل اس لیے کیا ہے کہ میں جرابوں پر مسح سے روکا کرتا تھا، مگر اب میری تحقیق یہ ہے کہ جرابوں پر مسح نہ صرف جائز ہے، بلکہ یہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اس لیے میں نے یہ عمل کرکے تمھیں بتایا ہے، تاکہ تم عوام الناس اور علما کو بتاؤ کہ ابو حنیفہ نے اپنے مسلک سے رجوع کرلیا ہے۔‘‘ صرف جرابوں پر مسح کے مسئلے پر رجوع ہی نہیں، بلکہ امام صاحب رحمہ اللہ نے کثیر مسائل میں تحقیق کے بعد ان سے رجوع کیا تھا اور یہی محقّقین کی شان ہے اور یہی ہونا بھی چاہیے کہ جب صحیح مسئلہ سامنے آجائے تو اپنے پرانے عمل کو فوراً ترک کر دیا جائے جو بلا دلیل ہو اور ازروے دلیل صحیح کو اختیار کر لیا جائے۔ ’’طبقات الحنفیۃ‘‘ (ص: ۹۲ تا ۱۰۰) میں شیخ عبدالقادر نے ذکر کیا ہے: ’’امام صاحب نے قاضی ابو یوسف کو ایسے چوبیس (۲۴) مسئلے تحریر کرائے، جن میں انھوں نے اپنے سابقہ مسلک سے رجوع کیا تھا اور قاضی ابو یوسف کو یہ تاکید فرمائی کہ یہ مسائل اور ان میں رجوع علما کو بھی بتا دینا اور عوام تک بھی پہنچا دینا، تاکہ کہیں میری وجہ سے لوگ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ترک نہ کرتے رہیں، اس لیے کہ نعمان غلطی کرسکتا ہے، مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلطی نہیں کرسکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر اور معصوم ہیں اور نعمان بن ثابت پیغمبر ہے نہ معصوم۔ یاد رکھنا کہ جب میرا کوئی قول حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف پاؤ تو میرے قول کو دیوار پر مار دو اور حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سینے سے لگا لو۔‘‘ اس طرح امام صاحب رحمہ اللہ نے اپنے آپ کو بَریٔ الذمہ کرلیا۔ جو ان کی تواضع کے ساتھ ساتھ رفعت اور بلند مقامی کا ثبوت ہے۔ رحمہٗ اﷲ رحمۃ واسعۃ۔[1] [1] ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ (جلد ۲۰ شمارہ ۵۲ بابت ماہ ۲۹ جمادی الاولیٰ ۱۴۱۰ھ بہ مطابق ۲۹ دسمبر ۱۹۸۹ء)