کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 278
’’جرابوں پر مسح کے جواز کا قول کئی اہلِ علم کا ہے اور حضرت سفیان ثوری، ابن المبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے۔‘‘[1] علامہ ابن قیّم رحمہ اللہ ’’تہذیب السنن‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’جرابوں پر مسح کے جواز کا قول اکثر اہلِ علم کا ہے اور جن صحابہ کے نام ذکر کیے گئے ہیں، ان کے علاوہ امام احمد، اسحاق بن راہویہ، عبداللہ بن مبارک، سفیان ثوری، عطاء بن ابی رباح، حسن بصری، سعید بن مسیب اور ابو یوسف قاضی رحمہم اللہ بھی جواز کے قائل تھے اور جن صحابہ رضی اللہ عنہم کے نام ہم ذکر کر آئے ہیں، ان کا مخالف بھی دوسرا کوئی صحابی ہم نہیں جانتے۔‘‘[2] احناف کا مسلک: معالم السنن میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے دونوں شاگردانِ گرامی امام قاضی ابو یوسف اور امام محمد رحمہ اللہ کا مسلک یوں منقول ہے: ’’یُمْسَحُ عَلَیْہِمَا إِذَا کَانَا ثَخِیْنَیْنِ لاَیَشِفَّانِ‘‘ ’’جرابوں پر مسح کیا جائے گا، جب کہ وہ موٹی ہوں۔‘‘ خاص فقہ حنفی کی کتاب قدوری میں ہے کہ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’یَجُوْزُ الْمَسْحُ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ إِذَا کَانَا ثَخِیْنَیْنِ لاَ یَشِفَّانِ الْمَائَ‘‘[3] ’’جرابوں پر مسح جائز ہے جب کہ وہ موٹی ہوں اور پانی کو (مسح کے وقت) چوس کر پاؤں تک نہ پہنچاتی ہوں۔‘‘ خود امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ شروع میں جرابوں پر مسح کے قائل نہ تھے، مگر بعد میں انھوں نے اپنے اس قول سے رجوع کر لیا اور صاحبین والا قول ہی اختیار فرما لیا تھا۔ چنانچہ قدوری کی شرح اللباب میں شیخ عبدالغنی غنیمی دمشقی میدانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔ ہدایہ کے حوالے سے تصحیح میں ہے: [1] سنن الترمذي مع تحفۃ الأحوذي (۱/ ۳۲۹) [2] تہذیب السنن لابن القیّم علی ہامش عون المعبود (۱/ ۲۷۳۔ ۲۷۴) [3] قدوري مع شرحہ اللباب (۱/ ۱/ ۴۰ دار الکتاب)