کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 272
ہے۔ حضرت حسن بصری، امام طاؤس اور امام احمد رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے اور علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ البتہ امام احمد کے اصحاب میں سے ایک جماعت نے بالوں کو کھولنا مستحب قرار دیا ہے، واجب نہیں کہا اور جمہور کا مسلک بھی عدمِ وجوب کا ہے۔‘‘[1] امام مسلم رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ والی مذکورہ حدیث کتاب الحج میں روایت کی ہے، جس پر امام نووی رحمہ اللہ نے ’’بیانُ حجِّ الحائض‘‘ کے الفاظ سے تبویب کی ہے۔[2] اس سے معلوم ہوا کہ حیض و نفاس کی صورت میں اصل بالوں کی چوٹیوں کو بھی کھولنے ہی کا حکم ہے تو مصنوعی جوڑے یا وِگ کو بھی اتارے بغیر غسل صحیح نہیں ہوگا اور غسل کے وقت تو شاید اسے رکھتا بھی کوئی نہیں، بلکہ اتار ہی لیا جاتا ہے، کیوں کہ اس کا اتارنا کوئی مشکل تو ہوتا نہیں۔ اصل مسئلہ وضو کا تھا تو وہ الحمد للہ ذکر ہوگیا کہ وِگ وغیرہ کو اتارے بغیر وضو صحیح نہیں ہوتا۔ غسلِ جنابت میں عورتوں کو رخصت دی گئی ہے کہ وہ بے شک بالوں کی چوٹیاں نہ کھولیں۔ چنانچہ صحیح مسلم، سننِ اربعہ اور مسندِ احمد میں حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے بالوں کو خوب مضبوطی سے گوندتی یا مینڈھیاں بناتی ہوں۔ کیا غسلِ جنابت کے لیے میں انھیں کھولا کروں تو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لاَ، إِنَّمَا یَکْفِیکِ أَنْ تَحْثِيْ عَلَیٰ رَأْسِکِ ثَلاَثَ حَثَیَاتٍ ثُمَّ تُفِیْضِیْنَ عَلَیْکِ الْمَائَ فَتَطْہُرِیْنَ )) [3] ’’نہیں تمھارے لیے بس اتنا کافی ہے کہ تین چلّو پانی اپنے سر پر ڈال لو اور پھر سارے بدن پر پانی بہالو۔ تم پاک ہو جاؤگی۔‘‘ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہی سے ایک روایت میں جنابت کے ساتھ حیض کا لفظ بھی مروی ہے، جسے اما م نووی رحمہ اللہ نے ’’لیس بشيء‘‘ کہا ہے۔ اس موضوع کی بعض دیگر تفصیلات ’’المنہاج [1] فتح الباري (۱/ ۴۱۸) معالم السنن للخطّابی (۱/ ۱۶۶ دار المعرفۃ) [2] دیکھیں: صحیح مسلم مع شرح النووي (۴/ ۸/ ۱۳۸۔ ۱۳۹) [3] صحیح مسلم مع شرح النووي (۲/ ۴/ ۱۱) الفتح الرباني (۳/ ۱۳۵) مختصر سنن أبي داود للمنذري (۱/ ۱۶۶) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۹۲) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۲۳۵) سنن ابن ماجـہ، رقم الحدیث (۶۰۳)