کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 270
وِگ پر مسح کا حکم: قرآن و سنت پر مبنی دلائل کی رو سے یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ مصنوعی جوُڑے یا وگیں ناجائز و حرام ہیں اور ان کا ارتکاب کبیرہ گناہ ہے۔ یہ تو تھی ان کی شرعی حیثیت۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر عورت ایسا جوڑا لگا ہی لے یا کوئی مرد وزن ایسی وِگ لگا لے تو غسل اور وضو میں ان کا کیا حکم ہے؟ تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ چونکہ ایسے جوُڑوں اور وِگوں کے بال جسم کا حِصّہ ہوتے ہیں نہ یہ کسی جائز صورت ومجبوری کی بنا پر لگائے جاتے ہیں اور نہ ان کا اتارنا چنداں دشوار ہوتا ہے، اس لیے ان کی حیثیت ایک خارجی چیز کی ہوگی، لہٰذا اگر کوئی عورت یا مرد وِگ لگائے ہوئے ہو اور وضو کرتے ہوئے سر کا مسح اس طرح کرے کہ ان مصنوعی بالوں کے اُوپر ہی مسح کر لے اور اصلی بالوں پر مسح نہ ہو پائے تو وہ کافی نہ ہوگا اور چونکہ سر کا مسح وضو کے فرائض و واجبات میں سے ہے، لہٰذا اس کا وضو صحیح نہیں ہوگا۔ اُسے مصنوعی جُوڑا یا وِگ اتار کر اپنے اصلی بالوں پر مسح کرنا ہوگا۔[1] وِگ کے ساتھ غسل کی صورت: غسل کے سلسلے میں مردوں کے لیے تو ضروری ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے بالوں والا ہو یا زلفوں والا، چاہے اس نے مینڈھیاں رکھی ہوئی ہوں، بہر حال بالوں کو کھول کر پورے بالوں کو بھی دھوئے گا اور سر کو بھی۔ لہٰذا مردوں کو تو بہر صورت وِگ اتار کر ہی غسل کرنا ہوگا، تاکہ سر کے اصل بال اور سر کی کوئی جگہ خشک نہ رہ جائے۔ عورتوں کا معاملہ اس سے کچھ مختلف ہے، کیوں کہ انھیں غسل کی بعض صورتوں میں کچھ رعایت دی گئی ہے۔ ہدایہ، بدائع الصنائع اور قدوری وغیرہ میں اس کی رعایت کو مطلق ہی قرار دے دیا گیا ہے کہ غسل چاہے کوئی بھی ہو، عورت کو اپنے سر کی چوٹی یا مینڈھیاں کھولنے کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ صاحبِ ہدایہ و قدوری لکھتے ہیں: ’’وَلَیْسَ عَلَیٰ الْمَرْأَۃِ أَنْ تَنْقُضَ ضَفَائِرَہَا فِي الْغُسْلِ إِذَا بَلَغَ الْمَائُ أُصُوْلَ الشَّعْرِ‘‘[2] ’’غُسل کے دَوران میں اگر پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے توعورت کے لیے بالوں [1] جدید فقہی مسائل (ص: ۲۹) [2] ہدایۃ، و البدائع بحوالہ شرح قدوري: اللباب في شرح الکتاب (۱/ ۱/ ۱۶)