کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 269
’’قدرتی ساخت میں ردّ و بدل کرنے والیوں پر اللہ کی لعنت ہو، مجھے کیا ہے کہ میں اس پر لعنت نہ کروں، جس پر نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو کتاب اللہ کی رُو سے بھی ملعون ہے۔‘‘ کتاب اللہ میں لعنت سے مراد سورۃ النساء (آیت: ۱۱۷) میں مذکور لعنت ہے۔ وِگوں کے استعمال میں چونکہ فریب کاری اور دھوکا دہی ہے، لہٰذا مذکورہ حدیث کی رو سے یہ ممنوع و حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ اس کے علاوہ صحیح بخاری و مسلم، سنن نسائی اور مسندِ احمد میں حضرت سعید بن مسیب سے مروی حدیث میں ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (( مَا کُنْتُ أَرَی أَحَدًا یَفْعَلُ ہٰذَا غَیْرَ الْیَہُوْدِ )) [1] ’’میں نے یہودیوں کے سوا کِسی کو اس فعل کا ارتکاب کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔‘‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت حمید سے مروی حدیث میں ہے کہ خود نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( إِنَّمَا ہَلَکَتْ بَنُو إِسْرَائِیْلَ حِینَ اتَّخَذَ ہٰذِہٖ نِسَاؤُہُمْ )) [2] ’’بنی اسرائیل کی عورتوں نے جب اس فعل کا ارتکاب شروع کیا تو وہ ہلاک ہوگئے۔‘‘ معلوم ہوا کہ مصنوعی جوُڑے اور وگیں لگانا یہودیوں کا فعل ہے، جو ان کی ہلاکت کے اسباب میں سے بھی ہے، لہٰذا جب بنی اسرائیل کی ہلاکت کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے تو یہ مسلمانوں کے لیے روا کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کے علاوہ جب یہ فعلِ یہود ہے تو اس کا ارتکاب کرنے والا یہودیوں کی مشابہت کرتا ہے، جو خود ممنوع ہے، کیوں کہ صحیح ابن حبان، سنن ابی داود اور مستدرکِ حاکم میں مذکور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی مشہور حدیث ہے: (( مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ )) [3] ’’جس نے کِسی قوم کی مشابہت کی تو وہ انھیں میں سے ہے۔‘‘ [1] صحیح البخاري مع الفتح (۹/ ۶۶۷) [2] صحیح البخاري مع الفتح، رقم الحدیث (۹۵۳۲) صحیح مسلم مترجم اُردو (۵/ ۳۳۴) [3] بحوالہ حجاب المرأۃ المسلمۃ (ص: ۱۰۴) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۴۰۱) صحیح الجامع، رقم الحدیث (۶۱۴۹) و الإرواء (۱۲۶۹)