کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 267
صحیح مسلم کی تیسری روایت اور سنن ترمذی میں یہ الفاظ منقول ہیں: (( لَیْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ )) ’’جس نے دھوکا دہی کی، وہ ہم سے نہیں۔‘‘ صحیح مسلم کی چوتھی روایت اور مستدرک حاکم میں یہ الفاظ منقول ہیں: (( لَیْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا )) ’’ جس نے ہم سے دھوکا دہی کی، وہ ہم سے نہیں۔‘‘ صحیح مسلم کی ایک پانچویں روایت، جو مسند احمد اور سنن بیہقی میں بھی مروی ہے، اس میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ یہ ہیں: (( أَلاَ مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا )) [1] ’’خبردار! جس نے ہم سے دھوکا دہی کی تو وہ ہم سے نہیں۔‘‘ اِس حدیث کی یہ پانچ روایتیں ہیں، جن کے الفاظ ملتے جلتے ہیں، اور ان میں معمولی فرق ہے، لیکن معنیٰ سب کا ایک ہی ہے، ان میں سے جو الفاظ زبان زدِ خاص و عام ہیں، وہ (( مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنَّا )) ہیں۔ ان الفاظ میں (( فَلَیْسَ مِنِّيْ )) وہ مجھ سے نہیں۔ یا (( فَلَیْسَ مِنَّا )) وہ ہم سے نہیں، سے مراد یہ ہے کہ وہ میری امّت سے نہیں یا بالفاظ دیگر وہ امتِ اسلامیہ کا فرد نہیں۔ اندازہ فرمائیں کہ کتنی سخت وعید ہے؟ صحیح ابن حبان، طبرانی صغیر، طبرانی کبیر، حلیۃالاولیا ابو نعیم اور مسند الشہاب للقضاعی میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: (( مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا، وَالْمَکْرُ وَالْخَدِیْعَۃُ فِي النَّارِ )) [2] ’’جس نے ہم سے دھوکا کیا، وہ ہم سے نہیں اور مکر و فریب کا انجام جہنّم ہے۔‘‘ مجمع الزوائد میں امام ہیثمی رحمہ اللہ نے اس کی سند کے ایک راوی عاصم کو سوے حفظ والا قرار دیا ہے، جب کہ شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے ’’إرواء الغلیل في تخریج أحادیث منار السبیل‘‘ میں لکھا ہے: [1] یہ حدیثِ ابو ہریرہ مختصر صحیح مسلم للمنذري، رقم الحدیث (۱۲۳۵) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۲۹۴۶) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۰۶۰) سنن ابن ماجـہ، رقم الحدیث (۲۲۲۴) إرواء الغلیل (۵/ ۱۶۱) میں ملاحظہ فرمائیں۔ [2] إرواء الغلیل (۵/ ۱۶۴) موارد الظمآن لزوائد ابن حبان للہیثمي (۱۱۰۷) و السلسلۃ الصحیحۃ (۱۰۵۸)