کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 263
’’اس سے معلوم ہوا کہ مردوں کے لیے بال رکھنے کا اندازہ اس حد بندی میں محدود ہے، جب کہ عورتوں کو یہ ہیئت اختیار کرنی ممنوع ہے، جس طرح کہ عورتوں کو مردوں سے تشبّہ اختیار کرنا ناجائز ہے۔‘‘ آگے تشبّہ اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کے ورود سے متعلقہ احادیث (جن میں سے بعض گزر چکی ہیں) نقل کرنے کے بعد صحیح مسلم والی موضوعِ بحث سے متعلق حدیث کے لفظ ’’یَأْخُذْنَ‘‘ کے بارے میں لکھا ہے: ’’اس کا ترجمہ ضروری نہیں کہ کاٹنا ہی ہو (جیسا کہ حافظ صلاح الدین صاحب یوسف نے کہا ہے) احتمال ہے کہ اس کا معنیٰ یہ ہو کہ وہ اپنے بالوں کا خاص انداز میں جوڑا بنالیتی تھیں، جو وفرہ کی شکل میں نظر آتے۔ مسائلِ طہارت سے اس معنیٰ کی مناسبت بھی ہے، کیوں کہ عورتیں عموماً غسل کے موقع پر ایسا فعل کرتی ہیں۔‘‘ ’’پھر مصنف رحمہ اللہ (امام مسلم) کا اسے اس کے مناسب محل و مقام پر ذکر نہ کرنا بھی ہمارے مدّعا کا مویّد ہے، جب کہ صحیح مسلم اپنے حسنِ ترتیب اور سہل الماخذ ہونے میں معروف ہے۔ دوسری بات یہ کہ شرع میں وفرہ، لِمّہ، جُمّہ، بالوں کے اوصاف صرف مردوں کے لیے بیان ہوئے ہیں، عورتوں کے لیے نہیں۔ یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بال حقیقتاً وفرہ نہ تھے۔ صرف دیکھنے میں وفرہ معلوم ہوتے تھے۔ اس لیے یہاں کافِ تشبیہ سے تعبیر کی گئی ہے۔ ’’کَالْوَفْرَۃ‘‘ یعنی وفرہ جیسے تھے۔ ’’اگر یہ بات تسلیم بھی کرلی جائے کہ ’’ےأخُذْنَ‘‘ کا معنیٰ کاٹنا ہے تو یہ ازواجِ مطہّرات رضی اللہ عنہم کا خاصا ہوگا، کیونکہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اِن کی حیثیت معتدات (عدت گزارنے والیاں) جیسی تھی۔ قرآنِ مجید میں ہے: {وَ مَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَ لَآ اَنْ تَنْکِحُوْٓا اَزْوَاجَہٗ مِنْم بَعْدِہٖٓ اَبَدًا اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْمًا} [الأحزاب: ۵۳] ’’تمھارے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ کے رسول کو تکلیف دو، اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں (ازواجِ مطہّرات ) سے نکاح کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا