کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 261
آگے حافظ صاحب موصوف نے لکھا ہے: ’’ازواجِ مطہّرات رضی اللہ عنہم کے اس طرزِ عمل سے اس امر کا جواز تو یقینا معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں ایسے بال رکھ سکتی ہیں، جنھیں ہمارے ہاں عام طور پر پٹے کہا جاتا ہے۔ تاہم اس سے نوجوان عورتوں کے بالوں کے فیشن کا جواز ہر گز نہیں نکلتا، جو ایک تو وفرہ (پٹے) کی تعریف میں نہیں آتے۔ دوسرے اس کی بُنیاد تبرّج (اظہارِ زیب و زینت) اور بے پردگی پر ہے۔ تیسرے اس سے مقصود مغربی عورتوں کی نقّالی ہے۔ جو (( مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ )) کی رو سے ناجائز ہے۔ چوتھے اس میں بالعموم غیر محرم مردوں سے بال کٹوانے پڑتے ہیں، جو سراسر بے غیرتی کا مظاہرہ ہے۔ ’’ان وجوہِ اربعہ کے پیشِ نظر عورتوں کے بال کٹوانے کی موجودہ روش سراسر غیر اسلامی اور ناجائز ہے۔ اسی طرح بیوٹی پارلروں کا موجودہ کاروبار جو عورتوں میں بالوں کے مغربی فیشن اور بے پردگی کو عام کرنے کا باعث ہے، غلط اور ناجائز ہے۔ تاہم اگر کوئی عورت مذکورہ تمام قباحتوں سے بچتے ہوئے لمبے بال رکھنے کے بجائے پٹے بال رکھنا پسند کرے تو اس کا جواز موجودہے۔‘‘[1] دیگر محققین کی رائے: موصوف کے اس جواب میں موجودہ فیشن کی تردید تو بہر حال موجود ہے اوربالوںکی تراش و خراش سے مراد صرف فیشن کی پیروی ہی ہوتی ہے نہ کہ دوسری غرضِ شریف۔ جہاں تک وجوہِ اربعہ اور دیگر قباحتوں سے بچتے ہوئے پٹے بال کٹوانے کے جواز کا کہا گیا ہے اور امام نووی رحمہ اللہ اور دیگر شارحینِ حدیث (جن کی غالب اکثریت نے امام نووی رحمہ اللہ ہی کا قول نقل کرکے اسے برقرار رکھا ہے) کے اس جواز کو تسلیم کرنے کا ذکر کیا ہے، اسے بعض دیگر محقّق علماے کرام درست تسلیم نہیں کرتے۔ چنانچہ الاعتصام (شمارہ ۴۵ جلد ۴۱ بابت ۱۰ ربیع الثانی ۱۴۱۰ھ بہ مطابق ۱۰ نومبر ۱۹۸۹ء) ہی میں استاذی شیخ الحدیث مولانا ثناء اللہ خاں مدنی (لاہور) نے ایک تفصیلی مضمون لکھا اور ثابت کیا کہ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب اور دیگر شارحین کی رائے درست نہیں ہے۔ اسی طرح ایک فاضل [1] ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ (جلد: ۴۱، شمارہ: ۴۶) لاہور۔