کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 258
خود حافظ ابنِ حجر نے اس بات کو قوی قرار دیا ہے، لیکن یہ بھی ان کا اور بعض دیگر علما کا محض خیال ہے۔ ورنہ احادیث کے الفاظ میں ایسی کوئی صراحت نہیں ملتی، حتیٰ کہ بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت اور اس کے حکم سے دوسرے بال یا کوئی بھی چیز لگالے تو جائز ہے، مگر حافظ عسقلانی کے بقول ’’باب وصل الشعر‘‘ میں مذکور احادیث ان کے خلاف ہیں۔ [1] جب کہ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں جو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، اس بات کی واضح طور پر تردید موجود ہے، کیوں کہ اس حدیث میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں: ’’میری بیٹی کاشوہر مجھے اس بات پر برانگیختہ کرتا تھا (کہ میں کچھ جوڑوں) کیا میں کوئی چیز جوڑوں؟ تو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے اور جڑوانے والی عورت کو بُرا کہا۔‘‘[2] وِگ لگانے کی ممانعت: وِگ کے استعمال کو کبار معاصرین اہلِ علم نے بھی اپنے فتاویٰ میں ناجائز قرار دیا ہے۔ مثلاً فتویٰ صادر کرنے والے متعدد مفتیانِ کرام پر مشتمل دائمی کمیٹی نے بھی اس کے عدمِ جواز کا فتوی دیا ہے اور یاد رہے کہ اس کمیٹی میں شیخ ابن باز رحمہ اللہ اور انہی جیسے دیگر بلند پایہ علما شامل ہیں۔ خاص کر شیخ ابن باز رحمہ اللہ اور دوسرے معروف سعودی عالم شیخ محمد بن صالح العثیمین نیز بعض دیگر اہلِ علم نے بھی ایسا ہی فتویٰ دیا ہے۔[3] عورتوں کو بال کٹوانے کی ممانعت: یہاں یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ جس طرح عورتوں کا اپنے اصل بالوں کے ساتھ کوئی دوسرے بال جوڑنا حرام ہے، اُسی طرح عورتوں کا بال منڈوانا بھی حرام ہے، سوائے کسی عذر و مجبوری کے، کیوں کہ طبرانی میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: (( نَہَیٰ النَّبِيُّ ﷺ أَنْ تحْلِقَ الْمَرْأَۃُ رَأْسَہَا )) ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو اپنا سر مونڈنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘ [1] فتح الباري (۱۰/ ۳۷۵) [2] صحیح البخاري مع الفتح (۱۰/ ۳۷۴) [3] فتاویٰ اسلامیہ (۳/ ۱۷۹۔ ۱۸۱۔ ۲۰۲۔ ۵۰۲) طبع دار القلم۔ بیروت۔