کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 254
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے اور جڑوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘ [1] 2۔سنن نسائی اور مسندِ احمد میں صحیح سند سے حضرت مسروق رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی: ’’مجھے اطلاع ملی ہے کہ آپ بال جوڑنے سے منع کرتے ہیں؟‘‘ انھوں نے کہا: ہاں، تو اس عورت نے کہا: ’’کیا اس کے بارے میں قرآن کریم سے کوئی دلیل پاتے ہو یا تم نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سُنا ہوا ہے؟‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’میں اس کی ممانعت کی دلیل کتاب اللہ میں بھی پاتا ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس کی ممانعت کے بارے میں سُن چکا ہوں۔‘‘ اُس عورت نے کہا: ’’اللہ کی قسم! میں نے قرآن کریم کی اوّل تا آخر ورق گردانی کی ہے، مجھے تو وہ کچھ نہیں ملا جو تم کہتے ہو۔‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تمھیں قرآنِ کریم میں سورۃ الحشر کی آیت (۷) میں یہ الفاظ نہیں ملے ہیں: {وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا} ’’رسول اللہ تمھیں جس کا حکم دیں اُسے اختیار کر لو اور آپ جس سے منع کر دیںاس سے رک جاؤ۔‘‘ اس عورت نے کہا ہاں تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’میں نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بال جوڑنے سے منع فرماتے ہوئے سُنا ہے۔‘‘ [1] صحیح البخاري مع فتح الباري (۱۰/ ۳۷۸) صحیح مسلم مترجم اُردو (۵/ ۳۳۳ ترجمہ علامہ وحید الزمان) صحیح سنن النسائي للألباني، رقم الحدیث (۴۷۱۶) صحیح سنن أبي داود، للألباني، رقم الحدیث (۳۵۱۳) صحیح سنن الترمذي للألباني، رقم الحدیث (۱۴۴۱ و ۲۲۳۴) سنن ابن ماجـہ، رقم الحدیث (۱۹۸۷) غایۃ المرام في تخریج أحادیث الحلال و الحرام للألباني (ص: ۷۴۔ ۷۵ المکتب الإسلامی)