کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 249
ضروری ہے، ایسے ہی ڈامر کو بھی اتارنا ضروری ہے اور اس کے بعد وضو کرنا ہوگا، ورنہ اس کی موجودگی میں اتنی جگہ کے اصل جسم تک پانی نہیں پہنچے گا اور وضو نہیں ہوگا۔ ہاں نیل پالش اور ڈامر میں اتنا فرق ہے کہ نیل پالش کی ضرورت ہرگز نہیں ہوتی، وہ تو صرف ایک زینت ہوتی ہے، البتہ ایک ضرورت ہونے کی شکل میں اس سے مختلف ہے، لہٰذا اگر کسی عذر و ضرورت کی بنا پر ڈامر لگانا ناگزیر ہو جائے اور اُسے اتارنا یا چھڑانا نقصان دِہ ہو تو پھر وہ بھی جبیرہ، پلاسٹر اور زخم کی پٹی کے حکم میں آئے گا اور اُسے اتارے بغیر وضو ہو جائے گا اور نماز ادا کی جاسکے گی۔[1] غسل و وضو میں مصنُوعی بالوں کے جُوڑوں یا وِگوں کا حُکم: اب باری ہے اِس جدید فقہی مسئلے کی کہ اگر کِسی مرد یا عورت نے مصنوعی بالوں کا بنا ہوا جوڑا یا وِگ لگا رکھی ہو تو غسل و وضو کا طریقہ کیا ہوگا اور سر کے مسح کے لیے کیا صورت اختیار کرنا پڑے گی؟ اس سوال کے جواب سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ دیکھ لیا جائے کہ مصنوعی بال لگانے یا ان سے بنا ہوا جُوڑا یا وِگ استعمال کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ زیب و زینت اور بناؤ سنگار کرنا عورت کا ایک فطری جذبہ اور شوق ہے، جس کی رعایت رکھتے ہوئے اسلام نے ان کے لیے ریشمی لباس، زیورات، کاسمیٹک اور میک اپ کے سامان کا استعمال جائز قرار دیا ہے، بشرطیکہ یہ سب چیزیں چار دیواری کے اندر اندر اور خاص کر شوہر کے لیے ہوں۔ بے حجاب ہوکر سیر و سیاحت کے دَوران اور مرد و زن کی مخلوط پارٹیوں میں شرکت کرکے غیر مردوں کو دکھانے کے لیے نہ ہوں۔ ایسے ہی اسلام نے جہاں عورتوں کو حدود کے اندر رہتے ہوئے بناؤ سنگار اور زیب و زینت کی اجازت بخشی ہے، وہیں یہ پابندی بھی عائد کی ہے کہ اس میں غلو نہ کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بناوٹ و شناخت میں کوئی تغیر و تبدل نہ کیا جائے، کیوں کہ یہ ایک شیطانی فعل ہے، چنانچہ سورۃ النساء (آیت: ۱۱۸) میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے شیطان پر لعنت کی تھی تو اس نے کہا تھا: {لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا} ’’میں تیرے بندوں میں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا۔‘‘ یعنی ان کے اوقات میں، ان کی محنتوں میں، ان کی قوتوں و قابلیتوں میں، ان کے مال اور [1] جدید فقہی مسائل (ص: ۲۱۔ ۲۲) بتصرّف۔