کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 243
ذکر نہیں، اس معاملے میں حضرت جابر اور علی رضی اللہ عنہما سے مروی احادیث ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ استدلال ہیں۔[1] امام ابو حنیفہ اور علامہ ابنِ حزم رحمہ اللہ کا مسلک: فقہ حنفی کی معتبر اور معروف کتاب ’’بدائع الصنائع‘‘ (۱/ ۱۳) میں امام صاحب رحمہ اللہ کا مسلک یہ مذکور ہے کہ جبیرہ پر مسح صرف مستحب ہے واجب نہیں، جبکہ صاحبین یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک واجب ہے اور امام صاحب سے ’’البدائع‘‘ میں منقول ہے: ’’فرضیت کسی قطعی دلیل کے بغیر ثابت نہیں ہوسکتی، جب کہ مسح کے بارے میں جو حدیثِ علی ہے، وہ (اخبارِ آحاد میں سے ہے اور) ضعیف ہے، لہٰذا اس سے فرضیت ثابت نہیں ہوسکتی۔‘‘[2] امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی یہ رائے اگرچہ کتبِ فقہ حنفیہ کی رو سے مفتیٰ بہ نہیں، بلکہ فتویٰ ان کے دوسرے قول اور صاحبین کے قول کے مطابق وجوب ہی کا ہے، لیکن موصوف کی رائے سے علامہ ابن حزم رحمہ اللہ کا اتفاق ہے، بلکہ انھوں نے تو ’’المحلّی‘‘ میں دو ٹوک فیصلہ دیا ہے کہ جبیرہ پر مسح کرنا مشروع نہیں ہے، ان کے نزدیک اس کی دلیل ایک تو سورۃ البقرہ کی آخری آیت (۲۸۶) میں مذکور یہ ارشادِ الٰہی ہے: {لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا} ’’اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی وسعت و طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔‘‘ دوسری دلیل صحیح بخاری و مسلم، سنن نسائی و ابن ماجہ اور مسندِ احمد میں مروی یہ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( إِذَ أَمَرْتُکُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوْا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ )) [3] ’’جب میں تمھیں کسی کام کا حکم دوں تو حسبِ استطاعت اس کی تعمیل کرو۔‘‘ لہٰذا قرآن و سنت دونوں کی رُو سے ہر وہ عمل ساقط ہوگیا، جو کسی کی طاقت سے باہر ہو، اس کا [1] نیل الأوطار (۱/ ۱/ ۲۵۷۔ ۲۵۸) [2] دیکھیں: الفقہ الإسلامي للزحیلي (۱/ ۳۴۷) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۲۸۹) صحیح مسلم مع شرح النووي (۹/ ۱۰۱) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۲۴۵۶) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲) کذا في إرواء الغلیل (۱/ ۱۸۳)