کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 240
کے نتیجے میں) اس کی موت واقع ہوگئی۔ جب اس واقعہ کی خبر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( قَتَلُوْہُ قَتَلَہُمُ اللّٰہُ )) [1]’’اللہ انھیں غارت کرے، انھوں نے اسے قتل کر دیا۔‘‘ جب انھیں اصلی حکم معلوم نہیں تھا تو انھوں نے پوچھ کیوں نہ لیا؟ کیوں کہ ایسے بیمار کی شفا پوچھ لینا ہے، اُسے یہی کافی تھا کہ وہ تیمم کرلیتا اور زخم پر پٹی وغیرہ باندھ کر اس پر مسح کر لیتا اور باقی سارے جسم کا غسل کر لیتا۔‘‘ اسے ’’بلوغ المرام‘‘ میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’ضعیف السند‘‘ کہا ہے اور ’’سُبل السلام‘‘ میں امیر صنعانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے: ’’یہ حدیث اور حضرت علی رضی اللہ عنہ والی حدیث دونوں مل کر ’’المسح علی الجبیرۃ‘‘ کے وجوب کا پتا دیتی ہیں، لیکن وجوب میں علما کا اختلاف ہے۔‘‘[2] بعض کہتے ہیں کہ ان دونوں حدیثوں کی بنا پر مسح کرے اور ان میں اگرچہ ضعف ہے، لیکن باہم مل کر کچھ قوت اختیار کر جاتی ہیں۔ اس لیے بھی کہ اب اس عضو کو دھونا ناممکن ہوگیا ہے تو سر کے بالوں پر مسح کی طرح ہی پٹی پر مسح ہوگا اور موزوں پر مسح کرنے پر بھی قیاس کیا گیا ہے۔ امیر صنعانی رحمہ اللہ نے اس قیاس کو قوی قرار دیا ہے۔ اما م بیہقی نے بھی اس دوسری حدیثِ جابر کو ضعیف کہا ہے، لیکن صحیح ابن خزیمہ و ابن حبان اور مستدرک حاکم میں اس حدیث کی شاہد ایک دوسری حسن درجے کی اور بعض کے نزدیک صحیح حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ اس کے ساتھ مل کر یہ حدیثِ جابر حسن درجے کی ہو جاتی ہے، مگر صرف تیمم کے ذکر تک، کیوں کہ حدیثِ ابن عباس رضی اللہ عنہما میں آگے پٹی باندھنے، اس پر مسح کرنے اور باقی سارے جسم کا غسل کرنے کے الفاظ نہیں ہیں۔ لہٰذا بعض کبار محدّثین رحمہ اللہ نے کہا ہے: ’’یہ آخری حِصّہ ضعیف و منکر ہے، کیونکہ یہ الفاظ صرف ضعیف سند سے وارد ہیں۔‘‘ [3] [1] صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۲۵) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۵۷۲) [2] بلوغ المرام و سبل السلام (۱/ ۱/ ۹۹) [3] تلخیص الحبیر (۱/ ۱/ ۱۴۷۔ ۱۴۸) و تمام المنۃ (ص: ۱۳۱) مشکاۃ المصابیح (۱/ ۱۶۶)