کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 238
کے لیے اس صورت میں کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؟ اس سلسلے میں بھی شریعتِ اسلامیہ کے مصادر میں ہدایات موجود ہیں کہ اس پلاسٹر پر صرف مسح کر لیا جائے، یعنی اس کے اُوپر صرف گیلا ہاتھ پھیر دیا جائے، اُسے دھونے کی بھی ضرورت نہیں ہے اور اس کی حیثیت جبیرہ یعنی پٹی پر مسح کی ہوگی، جو فقہ اسلامی کا معروف مسئلہ ہے۔ جبیرہ یا جبارۃ کی تعریف میں امام ابنِ قدامہ ’’المغني‘‘ (۱/ ۲۷۷) میں اور صاحبِ ’’مغني المحتاج‘‘ (۱/ ۹۴) لکھتے ہیں: ’’کسی لکڑی وغیرہ کی وہ پٹی جو برابر تراش کر کسی جوڑ کے اُتر جانے پر یا کِسی ہڈی کے ٹوٹ جانے پر اُسے صحیح اور سیدھا رکھنے کے لیے اس جوڑ یا ہڈی پر باندھ دی جاتی ہے۔‘‘ ڈاکٹر وہبہ زحیلی نے ’’الفقہ الإسلامي وأدلتہ‘‘ میں لکھا ہے: ’’کسی ہڈی کے ٹوٹ جانے پر اُسے جوڑ کر جو چپس لگا دی جاتی ہے (جسے پلاسٹر کہا جاتا ہے) وہ بھی جبیرہ کے معنوں میں داخل ہے۔ اگر سر پر چوٹ آکر زخم ہو جائے یا کسی جگہ فصد لگوائی ہو یا کوئی پھنسی پھوڑا یا کسی آپریشن کے بعد پٹی باندھی گئی ہو تو یہ ساری پٹیاں بھی جبیرہ کے حکم میں داخل ہیں۔‘‘[1] ’’المسح عَلَی الجبیرۃ‘‘ (پٹی پر مسح) کو عقلاً اور شرعاً ہر دو اعتبار سے مشروع کہا گیا ہے۔ عقلاً اس طرح کہ ضرورت اس مسح کی متقاضی ہے اور پلاسٹر یا پٹی کو اتارنا حرج و ضرر کا باعث ہے، بلکہ فقہ حنفی کی کتاب ہدایہ کے مولّف علامہ مرغینانی کے بقول موزے اتارنے سے پٹی اتارنے کا حرج کئی گنا زیادہ ہے۔ لہٰذا جب موزوں پر مسح جائز ہے تو پلاسٹر یا پٹی پر بالاولیٰ جائز ہوگا۔[2] شرعاً بھی اس مسح کے جواز پر متعدد احادیث سے استدلال کیا گیا ہے، لیکن ان احادیث میں سے کوئی ایک بھی مرفوع حدیث صحیح نہیں، بلکہ سب ضعیف اور متکلم فیہ ہیں۔ ان کے ضعف اور کمزوری کو واضح کرنے کے لیے محدّثین کرام کی تصریحات کو اگر بالتفصیل ذکر کیا جائے تو بات طویل ہو جاتی ہے، لہٰذا ہم ان کا خلاصہ ذکر کر دیتے ہیں: 1۔ جن احادیث سے ’’المسح عَلَی الجبیرہ‘‘ کی مشروعیت پر استدلال کیا جاتا ہے، ان میں سے پہلی [1] الفقہ الإسلامي (۱/ ۳۴۶) [2] ہدایۃ مع فتح القدیر (۱/ ۱۰۹)